"> طالبان دور میں انتہا پسندی: پاکستان کے مؤقف کی عالمی تائید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان دور میں بڑھتی دہشت گردی بے نقاب، پاکستان کے مؤقف کی عالمی تائید

طالبان رجیم کے زیرِ سرپرستی دہشت گردی کے پھیلاؤ پر عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی۔
طالبان دور میں بڑھتی دہشت گردی بے نقاب، پاکستان کے مؤقف کی عالمی تائید

افغانستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردوں کے محفوظ مراکز پر عالمی اداروں کا انکشاف، پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی حمایت حاصل۔

July 10, 2026

افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان رجیم کے زیرِ سایہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق طالبان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے افغانستان کو انتہا پسندی کی آگ میں جھونک دیا ہے، جس سے پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کو شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

امریکی تحقیقی ادارے گلوبل کانفلکٹ ٹریکر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے پورے ملک پر سخت قوانین کے تحت لامحدود اختیارات کے ساتھ اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القاعدہ جیسے بدنام زمانہ شدت پسند گروہوں نے افغانستان کو دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور انہیں بیرونِ ملک بھیجنے کے محفوظ مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے اس طرزِ عمل کے باعث افغان عوام کو اب بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔

دوسری جانب جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغان خواتین کو بڑی حد تک عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔ وہ پرائمری سے آگے تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں اور مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی کرنے والی افغان طالبان رجیم کے خلاف اب پوری دنیا پاکستان کے اسٹریٹجک مؤقف کی تائید کر رہی ہے۔ خطے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر عالمی برادری نے بھی تہران اور اسلام آباد کے سفارتی و دفاعی خدشات کو درست تسلیم کیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *