افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان رجیم کے زیرِ سایہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق طالبان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے افغانستان کو انتہا پسندی کی آگ میں جھونک دیا ہے، جس سے پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کو شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے گلوبل کانفلکٹ ٹریکر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے پورے ملک پر سخت قوانین کے تحت لامحدود اختیارات کے ساتھ اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القاعدہ جیسے بدنام زمانہ شدت پسند گروہوں نے افغانستان کو دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور انہیں بیرونِ ملک بھیجنے کے محفوظ مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے اس طرزِ عمل کے باعث افغان عوام کو اب بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔
دوسری جانب جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغان خواتین کو بڑی حد تک عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔ وہ پرائمری سے آگے تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں اور مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی کرنے والی افغان طالبان رجیم کے خلاف اب پوری دنیا پاکستان کے اسٹریٹجک مؤقف کی تائید کر رہی ہے۔ خطے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر عالمی برادری نے بھی تہران اور اسلام آباد کے سفارتی و دفاعی خدشات کو درست تسلیم کیا