امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ مسلسل دسویں رات ہے جب امریکی افواج نے ایران پر حملے کیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ امریکی افواج نے اس مرحلے میں ایران کے فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل و ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور جاری ہے۔ بیان کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں معاونت فراہم کی ہے۔
سینٹکام نے مزید کہا ہے کہ امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ و محفوظ گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت پر ایران کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس دوران خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق سات جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 96 فیصد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔ ادھر اردن، کویت اور بحرین سے بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں