ستمبر 1965 کی جنگ کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں پاک فوج نے بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے 40 بھارتی ٹینک تباہ کیے، جبکہ 3 بھارتی افسران، 4 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 102 سپاہیوں کو جنگی قیدی بنایا گیا۔
جنگ کے اس مرحلے پر سیالکوٹ کے محاذ پر چاونڈہ کے علاقے میں بھی شدید لڑائی جاری رہی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 18 اور 19 ستمبر کو چاونڈہ کے قریب بھارتی فوج نے پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
مختلف محاذوں پر پسپائی
جنگی ریکارڈ کے مطابق کھیم کرن کے علاقے میں بھارتی فضائیہ نے 3 فضائی حملے کیے، جنہیں پاکستانی دفاعی کارروائیوں کے ذریعے پسپا کیا گیا۔
واہگہ اور اٹاری سیکٹر میں بھی بھارتی فوج کی دو جوابی کارروائیوں کا سامنا کیا گیا۔ پاکستانی فورسز نے ان حملوں کو بھاری نقصان کے ساتھ پسپا کیا، جبکہ قصور اور کھیم کرن کے محاذوں پر بھارتی فوج کو کئی میل تک اپنے علاقے کے اندر پیچھے دھکیلے جانے کی اطلاع دی گئی۔
سندھ اور راجستھان سیکٹر میں بھی لڑائی جاری رہی، جہاں فراہم کردہ جنگی ریکارڈ کے مطابق 150 بھارتی فوجی ہلاک اور 21 کو جنگی قیدی بنایا گیا۔
پاک فضائیہ کی کارروائیاں
پاک فضائیہ نے بھی زمینی فوج کی معاونت جاری رکھی اور مختلف محاذوں پر فضائی کارروائیاں کیں۔
فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں بھارتی فضائیہ کا ہنٹر طیارہ مار گرایا گیا۔
جنگ کے دوران پاکستانی معاشرے میں دفاعی کوششوں کی حمایت بھی جاری رہی۔ ملک بھر سے مصنفین، شعرا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی آمدنی کا 10 فیصد نیشنل ڈیفنس فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔