لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

انصار اللہ کی بحری ناکہ بندی، عالمی توانائی راہداریوں کو شدید خطرات

حوثی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان نے بحیرہ احمر میں عالمی اور علاقائی توانائی کی راہداریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انصار اللہ کی بحری ناکہ بندی سے علاقائی توانائی راہداریوں کو خطرات میں اضافہ

انصار اللہ کی بحری ناکہ بندی سے بحیرہ احمر میں عالمی توانائی کی سپلائی اور پاکستان کی توانائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

July 21, 2026

یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف باضابطہ بحری ناکہ بندی کے اعلان نے مشرق وسطیٰ میں عسکری و سفارتی کشیدگی کو ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ صنعاء اور ریاض کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد اس اقدام نے نہ صرف بحیرہ احمر کی عمومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خطے میں وسیع تر تنازع کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ ناکہ بندی محض محدود سیاسی دباؤ کا ذریعہ رہے گی یا پھر آبنائے باب المندب سے تجارتی نقل و حمل میں اتنی شدید رکاوٹ بنے گی جس کے اثرات آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش جیسے نتائج پیدا کر سکیں۔

عالمی توانائی کا توازن اس وقت انتہائی حساس موڑ پر ہے کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی شدہد دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں خلیجی ممالک کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا انحصار سعودی عرب کی متبادل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہے، جو براہ راست بحیرہ احمر کے برآمدی ٹرمینلز سے جڑی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر تک رسائی کو نشانہ بنانے والی کسی بھی عسکری کارروائی کے اثرات صرف مملکت تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس سے خلیج کی اہم ترین متبادل توانائی راہداری اور بین الاقوامی سپلائی چین بھی مفلوج ہو سکتی ہے۔

اس بحری ناکہ بندی کے معاشی اور اقتصادی اثرات علاقائی سرحدوں سے تجاوز کر کے ایشیائی معیشتوں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین اور بھارت اپنی خام تیل کی کل برآمدات کا تقریباً 15 سے 18 فیصد حصہ سعودی عرب ہی سے حاصل کرتے ہیں۔

تاہم، پاکستان اس تناظر میں سب سے زیادہ حساس پوزیشن میں ہے، کیونکہ ملکی خام تیل کی مجموعی ترسیل کا اندازاً 30 سے 35 فیصد حصہ سعودی عرب سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحیرہ احمر کے بحری راستوں کا بلا تعطل کھلا رہنا پاکستان کی قومی و توانائی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناکہ بندی کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل چین کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کا تزویراتی مؤقف بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دیرینہ دفاعی و عسکری تعاون قائم ہے۔ پاکستان کی توانائی سپلائی لائنز متاثر ہونے کی صورت میں اس کے وسیع تر علاقائی اور سفارتی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ناکہ بندی کا عملی دائرہ کار اور اس کا دورانیہ آئندہ کا رخ طے کرے گا۔ اگر یہ اقدام کسی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت باب المندب اور آبنائے ہرمز پر یک وقت دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تو یہ ایک بڑے عالمی بحری چیلنج میں تبدیل ہو جائے گا۔

تاہم، اگر اس کا بنیادی مقصد تکنیکی و عسکری دباؤ قائم کرنا ہے، تو عمان کی روایتی ثالثی ایک بار پھر “کشیدگی میں اضافے کے بعد کمی” کی حکمت عملی کے تحت سیاسی حل اور حالات کو پرسکون بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *