امریکی جریدے فارن افیئرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی میں کمی لانے کی سفارتی کوششوں میں پاکستان نے فیصلہ کن اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ کثیر قطبی عالمی نظام میں ابھرتی ہوئی درمیانی طاقتیں اب عالمی سفارت کاری کی نئی سمت متعین کر رہی ہیں۔
جریدے کے مطابق اسلام آباد نے ایک ایسے وقت میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد عالمی ثالث کا کردار نبھایا جب امریکا، چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتیں سفارتی تعطل توڑنے میں ناکام رہیں۔
پاکستان نے ثابت کر دکھایا کہ موجودہ دور میں سفارتی اعتبار صرف معاشی یا عسکری قوت کا مرہونِ منت نہیں بلکہ متحارب طاقتوں سے بیک وقت مؤثر روابط قائم رکھنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
فارن افیئرز کے مطابق واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے ساتھ پاکستان کے متوازن اور مضبوط تعلقات اس کا سب سے بڑا تزویراتی اثاثہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اسی توازن کی بدولت پاکستان نے قطر، ترکیہ اور عمان جیسے دنیا کے نمایاں ثالث ممالک کی صف میں جگہ بنا لی ہے اور اس کا علاقائی اثر و رسوخ جنوبی ایشیا سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی فعال اور جرات مندانہ عسکری و سفارتی حکمتِ عملی نے پاکستان کو صرف ایک علاقائی سلامتی کے شراکت دار سے آگے بڑھا کر خطے کے ایک قابلِ اعتماد امن ثالث کے طور پر نمایاں کیا۔
واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور خطے میں پائیدار شراکت داریوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی وزن میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
ماہرینِ بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تزویراتی شراکت داری اور ایران کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطوں نے پاکستان کی اہمیت مزید واضح کر دی ہے۔
امریکا ایران بحران میں اسلام آباد کا یہ تاریخی کردار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب بلاک سیاست سے بالاتر ہو کر عالمی امن، تنازعات کے حل اور تزویراتی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔