اسلام آباد: پاکستان نے بحیرہ احمر اور خطے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہاز رانی اور مملکتِ سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں پر سخت پالیسی بیان جاری کیا ہے۔ دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بحری تجارتی راستوں پر جارحیت اور آزادانہ جہاز رانی میں رکاوٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق حوثی ملیشیا مقامی سطح کے تنازع سے نکل کر ایک علاقائی خطرہ بن چکی ہے، جس کی جانب سے بحری جہازوں اور سعودی عرب کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، عالمی سپلائی چین اور عالمی معیشت پر سیدھا حملہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دفترِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تزویراتی و دفاعی تعلقات قائم ہیں اور سعودی عرب کا تحفظ پورے خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی پاکستانی پرچم بردار جہاز یا بحری مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اسے پاکستان کی قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت پاکستان اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ عالمی بحری راستوں، تجارتی نقل و حمل اور انرجی سیکیورٹی کو محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی اقدامات کیے جائیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر پاکستان کشیدگی سے پاک سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا حامی ہے۔