یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تحریک انصاراللہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں تجارتی جہاز ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی شدید خلاف ورزی کر رہے تھے۔
انصاراللہ کی طرف سے جاری ہونے والے باقاعدہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی ان جہازوں کے خلاف کی گئی جنہیں پہلے ہی تنبیہ جاری کی جا چکی تھی۔ ترجمان کے مطابق یہ اقدام یمن پر عائد مسلسل محاصرے کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بحیرہ احمر میں سفر کے دوران ملکیت والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملہ مکمل محفوظ رہا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ سعودی ساحلی شہر الشقیق سے 70 ناٹیکل میل دور ایک بحری جہاز میں حادثہ پیش آیا۔ ٹینکر کے کپتان کے مطابق آگ میزائل لگنے کی وجہ سے لگی، جس سے سمندری ماحول کو فی الحال کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
خیال رہے کہ چند روز قبل انصاراللہ نے صنعا ایئرپورٹ کی بندش اور یمن کے محاصرے کے جواب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ پیش قدمی کی صورت میں سعودی جہازوں کی آمدورفت روکی جائے گی۔
دفاعی و معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ناکہ بندی کے اعلانات سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، بحری جہاز رانی اور خطے کی مجموعی امن و امان کی صورتِ حال پر شدید دباؤ مرتب ہوگا۔