جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کا صبر اب مکمل طور پر جواب دے چکا ہے۔ نیپال اور بنگلہ دیش کے بعد اب بھارت میں بھی نئی نسل سڑکوں پر ہے۔ تعلیمی بدنظمی، پیپر لیکس اور بے روزگاری کے خلاف کھڑی ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی اب مودی حکومت، آر ایس ایس اور ہندوتوا کے خلاف ایک عظیم الشان فکری انقلاب بن چکی ہے۔
دہائیوں سے قائم ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نفرت انگیز بیانیے کو بھارت کے باشعور نوجوانوں نے مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ جنریشن زی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذہبی نعروں کے دھوکے میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرقہ وارانہ سیاست کی جگہ تعلیمی اصلاحات اور روزگار کا پرچم بلند کر کے ظالم حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔
ماضی میں جب کبھی بھارت میں کوئی تحریک سر اٹھاتی، تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اسے فوراً مسلم انتہا پسندی یا ملک دشمنی کا لیبل لگا کر ختم کر دیتے تھے۔ لیکن اب کی بار ایک ایسی تحریک وجود میں آ چکی ہے جسے حکمران نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ یہ احتجاج کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ تمام نوجوانوں کی سانجھی آواز بن چکا ہے۔
جب یہ دو بڑی اقوام (ہندو اور مسلمان) ایک ساتھ کھڑی ہونے لگیں، تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ سخت خفت کا شکار ہو چکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر ہندو اور مسلمان کو لڑایا اور خود اقتدار کی خوابِ خرگوش کی نیند سوئے۔ آج ان کا اقتدار، جو مظالم اور سفاکیت سے بھرا پڑا ہے، تیزی سے الٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
حکمران طبقے نے مسلم طلبہ سے جوڑ کر مذہبی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی پوری کوشش کی۔ مقصد واضح تھا کہ ہندو نوجوانوں کو بدگمان کر کے اس تحریک کو کچل دیا جائے، لیکن بھارتی نوجوانوں کی بصیرت اور یکجہتی نے اس زہریلے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
بیس جولائی کو جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، تو پولیس نے بے دردی سے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور شدید شیلنگ کی۔ شیلنگ کے دھویں اور پولیس کے تشدد سے جب ہندو نوجوانوں کو سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نظر نہیں آ رہا تھا، تو قریبی مساجد کے مسلمانوں نے اپنی مساجد کے دروازے تمام مظاہرین کے لیے کھول دیے۔
ان مساجد میں زخمی ہندو نوجوانوں کو نہ صرف پناہ دی گئی بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا گیا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ مساجد کا یہ کردار ہندوتوا اور آر ایس ایس کے اس زہریلے پراپیگنڈے پر کاری ضرب تھا جو مسلمانوں کو ہمیشہ متشدد اور الگ تھلگ دکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اس یکجہتی کا دوسرا تاریخی منظر جنتر منتر کے دھرنے میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ایک مسلم نوجوان اطمینان کے ساتھ سڑک کے کنارے نماز ادا کر رہا تھا۔ یہ دل چھو لینے والا منظر اس فرقہ وارانہ نظریے کا عملی خاتمہ تھا جس نے دہائیوں سے دونوں برادریوں کو ایک دوسرے سے دور کر رکھا تھا۔
اسی طرح یہ تمام صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو دل سے اپنا لیا ہے۔ نوجوانوں نے اپنے عملی کردار سے بتا دیا ہے کہ ان کا حقیقی دشمن ان کا مسلم یا ہندو بھائی نہیں، بلکہ وہ ظالمانہ نظام ہے جو ان کا مستقبل تباہ کر رہا ہے۔
دھرنے کی جگہ پر مسلم نوجوانوں کی جانب سے بلا تفریق تمام مظاہرین کے لیے کھانے اور شربت کے مفت سٹالز اور لنگر لگائے گئے ہیں۔۔ ہندو اور مسلم نوجوانوں کا یہ مضبوط اور عملی اتحاد اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ نیپال اور بنگلہ دیش کی طرح اب بھارت میں بھی عوام اپنے حقوق حاصل کر کے رہیں گے اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔