ترجمان دفتر خارجہ نے ایمنسٹی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

July 23, 2026

مستونگ کے علاقے ولی خان میں سیشن جج کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج اور گن مین شہید، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

July 23, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو فون کر کے آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

July 23, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ایران نے نیا معاہدہ نہ کیا تو اسے عسکری اور معاشی طور پر مزید بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

July 23, 2026

ایران امریکہ کشیدگی اور خلیجی بحران کے حل کے لیے پاکستان کا متوازن سفارتی کردار انتہائی اہم ہے۔ عارضی انتظامات کے بجائے مستقل سیاسی حل ہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔

July 23, 2026

باجوڑ میں فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک افغان عسکریت پسند اسامہ حیدر کی ہلاکت نے افغان طالبان اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے گٹھ جوڑ کو آشکار کر دیا ہے۔

July 23, 2026

مودی کا انتہا پسند بیانیہ بے نقاب: بھارتی نوجوانوں نے ہندوتوا بیانیے کو خاک میں ملا دیا

بیس جولائی کے پارلیمنٹ مارچ پر شدید پولیس تشدد کے بعد مساجد کا ہندو مظاہرین کے لیے کھلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے ابو الکام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو اپنا کر ظالمانہ نظام کو رد کر دیا ہے۔
بیس جولائی کے پارلیمنٹ مارچ پر شدید پولیس تشدد کے بعد مساجد کا ہندو مظاہرین کے لیے کھلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے ابو الکام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو اپنا کر ظالمانہ نظام کو رد کر دیا ہے۔

بھارت میں کاکروچ پارٹی کے دھرنے کے دوران ہندو مسلم نوجوانوں کی مشترکہ آواز نے مذہبی تقسیم کی سیاست کو چیلنج کر دیا ہے۔ تعلیم، روزگار اور مستقبل کے مسائل پر مبنی یہ احتجاج نئی نسل کی بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔

July 23, 2026

جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کا صبر اب مکمل طور پر جواب دے چکا ہے۔ نیپال اور بنگلہ دیش کے بعد اب بھارت میں بھی نئی نسل سڑکوں پر ہے۔ تعلیمی بدنظمی، پیپر لیکس اور بے روزگاری کے خلاف کھڑی ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی اب مودی حکومت، آر ایس ایس اور ہندوتوا کے خلاف ایک عظیم الشان فکری انقلاب بن چکی ہے۔

دہائیوں سے قائم ہندوتوا اور آر ایس ایس کے نفرت انگیز بیانیے کو بھارت کے باشعور نوجوانوں نے مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ جنریشن زی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مذہبی نعروں کے دھوکے میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرقہ وارانہ سیاست کی جگہ تعلیمی اصلاحات اور روزگار کا پرچم بلند کر کے ظالم حکومت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

ماضی میں جب کبھی بھارت میں کوئی تحریک سر اٹھاتی، تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اسے فوراً مسلم انتہا پسندی یا ملک دشمنی کا لیبل لگا کر ختم کر دیتے تھے۔ لیکن اب کی بار ایک ایسی تحریک وجود میں آ چکی ہے جسے حکمران نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ یہ احتجاج کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ تمام نوجوانوں کی سانجھی آواز بن چکا ہے۔

جب یہ دو بڑی اقوام (ہندو اور مسلمان) ایک ساتھ کھڑی ہونے لگیں، تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ سخت خفت کا شکار ہو چکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر ہندو اور مسلمان کو لڑایا اور خود اقتدار کی خوابِ خرگوش کی نیند سوئے۔ آج ان کا اقتدار، جو مظالم اور سفاکیت سے بھرا پڑا ہے، تیزی سے الٹتا دکھائی دے رہا ہے۔

حکمران طبقے نے مسلم طلبہ سے جوڑ کر مذہبی اور فرقہ وارانہ رنگ دینے کی پوری کوشش کی۔ مقصد واضح تھا کہ ہندو نوجوانوں کو بدگمان کر کے اس تحریک کو کچل دیا جائے، لیکن بھارتی نوجوانوں کی بصیرت اور یکجہتی نے اس زہریلے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

بیس جولائی کو جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، تو پولیس نے بے دردی سے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور شدید شیلنگ کی۔ شیلنگ کے دھویں اور پولیس کے تشدد سے جب ہندو نوجوانوں کو سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نظر نہیں آ رہا تھا، تو قریبی مساجد کے مسلمانوں نے اپنی مساجد کے دروازے تمام مظاہرین کے لیے کھول دیے۔

ان مساجد میں زخمی ہندو نوجوانوں کو نہ صرف پناہ دی گئی بلکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا گیا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ مساجد کا یہ کردار ہندوتوا اور آر ایس ایس کے اس زہریلے پراپیگنڈے پر کاری ضرب تھا جو مسلمانوں کو ہمیشہ متشدد اور الگ تھلگ دکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اس یکجہتی کا دوسرا تاریخی منظر جنتر منتر کے دھرنے میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب ایک مسلم نوجوان اطمینان کے ساتھ سڑک کے کنارے نماز ادا کر رہا تھا۔ یہ دل چھو لینے والا منظر اس فرقہ وارانہ نظریے کا عملی خاتمہ تھا جس نے دہائیوں سے دونوں برادریوں کو ایک دوسرے سے دور کر رکھا تھا۔

اسی طرح یہ تمام صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو دل سے اپنا لیا ہے۔ نوجوانوں نے اپنے عملی کردار سے بتا دیا ہے کہ ان کا حقیقی دشمن ان کا مسلم یا ہندو بھائی نہیں، بلکہ وہ ظالمانہ نظام ہے جو ان کا مستقبل تباہ کر رہا ہے۔

دھرنے کی جگہ پر مسلم نوجوانوں کی جانب سے بلا تفریق تمام مظاہرین کے لیے کھانے اور شربت کے مفت سٹالز اور لنگر لگائے گئے ہیں۔۔ ہندو اور مسلم نوجوانوں کا یہ مضبوط اور عملی اتحاد اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ نیپال اور بنگلہ دیش کی طرح اب بھارت میں بھی عوام اپنے حقوق حاصل کر کے رہیں گے اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔

متعلقہ مضامین

ترجمان دفتر خارجہ نے ایمنسٹی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

July 23, 2026

مستونگ کے علاقے ولی خان میں سیشن جج کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج اور گن مین شہید، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

July 23, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو فون کر کے آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

July 23, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ایران نے نیا معاہدہ نہ کیا تو اسے عسکری اور معاشی طور پر مزید بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

July 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *