ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملوں کے حوالے سے جاری کی جانے والی تازہ رپورٹ کو ماہرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ 16 مارچ 2026 کو پاکستان کی جانب سے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے درست نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اہم آپریشنل شواہد سے چشم پوشی اختیار کر کے تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ کے بنیادی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ ایسی بڑی طبی سہولت میں ہزاروں مریض، طبی عملہ اور زائرین موجود ہوتے، اور اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور سینکڑوں موبائل فونز یا سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سامنے آتی۔ ایسی کسی بھی بصری شہادت کا مکمل فقدان رپورٹ کی صداقت کو مشکوک بناتا ہے۔
تحقیقاتی طریقہ کار کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ایمنسٹی معلوماتی خلا میں کام کر رہے ہیں اور ان کا انحصار یو این اے ایم اے کی معلومات پر ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور انسانی حقوق کے ماہر رچرڈ بینیٹ کے داخلے پر پابندی کے بعد زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں رہی، جس سے رپورٹ کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں، طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے یو این اے ایم اے میں کام کرنے اور حساس علاقوں بشمول اسپتالوں میں مرد اہلکاروں کے داخلے پر عائد پابندیوں کے باعث اقوام متحدہ کو افغانستان کی نصف آبادی اور طبی مراکز تک رسائی حاصل نہیں۔ ان حالات میں آزادانہ حقائق کی جانچ کے بغیر جاری کیے جانے والے دعوے شواہد کے بجائے صرف ایک فریق کے بیانات کی حیثیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے محدود دائرہ کار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایمنسٹی نے محض 60 کے قریب تصاویر و ویڈیوز اور صرف 11 افراد کے انٹرویوز پر اتنے بڑے واقعے کی بنیاد رکھی ہے۔ اسمارٹ فونز کے موجودہ دور میں ہزاروں افراد کی آمد و رفت والے مقام کے لیے یہ تعداد انتہائی ناافی اور غیر نمائندہ ہے، جو کہ دستیاب مواد کے محدود ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
تنظیم کے اندرونی امور اور انتظامی ڈھانچے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ پر قائم مقام جنوبی ایشیا ریجنل ڈائریکٹر ازابیل لیسی کے دستخط کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اصل ریجنل ڈائریکٹر اسمرتی سنگھ ہیں جن کا ماضی بھارتی میڈیا سے وابستہ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق جنوبی ایشیا کے دفتر میں بھارتی ملازمین کی اکثریت اور بھارتی گروہوں کے بیانیے کو جگہ دینا تنظیم کے غیر متوازن رویے اور دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ ایک تیار کردہ بیانیے پر مبنی ہے جس کے شواہد انتہائی کمزور اور طریقہ کار ناقص ہے۔ تنظیم نے ایک مخصوص جغرافیائی و سیاسی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے انسانی حقوق کے پلیٹ فارم کا استعمال کر کے اپنی غیر جانبداری کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔