افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں مختلف مخالف گروہوں نے متعدد علاقوں میں اہم کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔
فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم مواصلاتی سڑکوں کی آمد و رفت کا کنٹرول سنبھال لیا۔
دوسری جانب صوبہ بدخشان کے ضلع زیباک کے علاقے توپ خانہ میں طالبان کی سیکیورٹی چوکیوں پر ایک اور مربوط حملے کی اطلاع ملی ہے، جہاں فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اس سے قبل سپاہیانِ میہن فرنٹ نے ضلع یفتلی کے سرکاری دفاتر پر عارضی قبضے اور فوجی سازوسامان تحویل میں لینے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
تازہ ترین اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدخشان کا علاقہ طالبان حکومت کے لیے شدید دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔ مزاحمتی سرگرمیاں اب صرف پنجشیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا دائرہ کار کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ اور ہرات تک پھیل چکا ہے، جس سے طالبان کی ملک گیر سیکیورٹی گرفت سخت چیلنجز کی زد میں ہے۔