وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی پشت پناہی میں جاری دہشتگردی بلوچستان کی ترقی اور امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، تاہم پاکستان اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔ بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کی ترقی ملک کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو اب تک تقریباً 150 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ زرعی ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی منتقلی پر 75 ارب اور کراچی-چمن ایم-25 شاہراہ پر تقریباً 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی تب ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے حالیہ دہشتگردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور بتایا کہ اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی جانیں قربان کر چکے ہیں، جبکہ اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردوں کے استعمال سے روکے، تاہم مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ طلبہ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ شفاف حکمرانی سے گزشتہ سال 800 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔