بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج، فوجی دستوں اور پولیس نے مظالم اور سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے کریک ڈاؤن شدید تر کر دیا ہے۔ وادی کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے، کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز اور گھروں پر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے سرینگر، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، پلوامہ اور شوپیاں سمیت متعدد علاقوں میں حریت رہنماؤں اور عام شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران گلی محلوں میں اضافی چیک پوسٹس قائم کر کے شہریوں کو شدید ہراساں کیا جا رہا ہے۔
قابض انتظامیہ کی اس تازہ سفاکانہ کارروائی کے دوران اب تک 3 ہزار 500 سے زائد کشمیریوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کر کے حراستی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کشمیریوں کو بے گھر کرنے کی پالیسی کے تحت متعدد رہائشی مکانات کو بھی بموں سے مسمار کر دیا گیا ہے۔
چھاپوں کے دوران بھارتی اہلکاروں کی جانب سے گھروں میں توڑ پھوڑ، چادر و چار دیواری کی پامالی اور مکینوں پر تشدد کے باعث پوری وادی میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ سرینگر سمیت اہم شاہراہوں پر تلاشی کے نام پر عام راہگیروں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی پابندیاں عائد ہیں۔
سی آر پی ایف اور مقبوضہ انتظامیہ کے حکام نے وادی بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے اور مربوط کارروائیاں جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے بھارتی افواج کی ان پرتشدد اور سفاکانہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔