لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

نیب مقدمات اب صرف وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے تمام کارروائیاں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے نیب مقدمات کی اپیلوں اور ضمانتوں کے دائرہ اختیار سے متعلق آئینی تنازع کو طے کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

July 25, 2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کا فورم طے کر دیا۔ 24 جولائی 2026 کو جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا۔


یہ معاملہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور 5 مارچ 2026 کو نیب آرڈیننس میں نئی دفعہ 32-اے کے شامل ہونے کے بعد پیدا ہوا۔ اس دفعہ کے تحت سزا یافتہ شخص یا نیب، تیس دن میں وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف

سوال یہ تھا کہ جب مقدمے کی اپیل وفاقی آئینی عدالت میں جا چکی ہے تو اسی مقدمے کی ضمانت سپریم کورٹ سن سکتی ہے یا نہیں۔ ملزم عامر محمود کے وکیل نے کہا کہ ضمانت الگ معاملہ ہے کیونکہ دفعہ 32-اےمیں ضمانت کا ذکر نہیں۔ نیب اور اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصل مقدمہ اور ضمانت کو الگ الگ عدالتوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔

عدالت کا فیصلہ


عدالت نے کہا کہ آئین اور قانون کی متعلقہ دفعات ملا کر پڑھیں تو واضح ہے کہ نیب مقدمات کی دوسری اپیل اور اس سے جڑے معاملات کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہی ہے۔ ضمانت کوئی الگ معاملہ نہیں بلکہ اسی مقدمے کا حصہ ہے۔ اگر اپیل ایک عدالت میں اور ضمانت دوسری عدالت میں ہو تو الجھن اور متضاد فیصلوں کا خطرہ رہتا ہے۔


عدالت نے کہا کہ دائرۂ اختیار کسی کی خواہش یا رضامندی سے نہیں بنتا، یہ آئین طے کرتا ہے۔ پہلے ملزم صوابدیدی اپیل کر سکتا تھا، اب اسے وفاقی آئینی عدالت میں باقاعدہ قانونی حق دیا گیا ہے، یعنی اس کا حق ختم نہیں ہوا بلکہ نئی عدالت میں منتقل ہوا ہے۔

عدالتی پیغام


عدالت نے واضح کیا کہ اسے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی لڑائی یا کسی سیاسی شخصیت کے مقدمے سے نہ جوڑا جائے۔ یہ اصول سب پر یکساں لاگو ہوگا۔


عدالت نے کہا کہ طاقتور عدلیہ وہ نہیں جو ہر مقدمہ اپنے پاس رکھے بلکہ وہ ہے جو اپنی حد میں رہے۔ اس فیصلے سے یہ اصول طے ہوگیا کہ ایک مقدمہ ایک ہی عدالت میں چلے گا اور من پسند عدالت چننے کی اجازت نہیں ہوگی۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *