افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کو کئی برس بیت چکے ہیں اور عالمی برادری بارہا یہ سوال اٹھاتی رہی ہے کہ آیا طالبان حکومت ملک کے متنوع نسلی، لسانی اور علاقائی تانے بانے کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ بدخشاں سے آنے والی تازہ اطلاعات اور بڑھتی ہوئی بدامنی اس سوال کو محض نظریاتی بحث سے نکال کر ایک عملی اور سنگین حقیقت میں بدل رہی ہے۔
طالبان کی قیادت، جو بنیادی طور پر قندھار سے فیصلے کرتی ہے، نے اقتدار کے آغاز سے ہی ایک سخت گیر مرکزیت پسند ماڈل اپنایا۔ یہ طریقہ کار ایک ایسے ملک میں نافذ کیا گیا جو صدیوں سے علاقائی خودمختاری، قبائلی توازن اور مقامی قیادت کے احترام پر قائم رہا ہے۔ بدخشان، جو تاجک اکثریتی صوبہ ہے اور جغرافیائی و ثقافتی اعتبار سے کابل و قندھار سے الگ شناخت رکھتا ہے، اس وقت اس سخت مرکزیت پسندی کا سب سے بڑا شکار بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
کسی بھی خطے میں جب معدنی وسائل، خاص طور پر بین الاقوامی کان کنی کے معاہدوں پر فیصلے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جائیں تو نتیجہ محرومی اور بیگانگی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ بدخشاں کے عوام میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ ان کی زمین کی دولت پر فیصلے دور دراز بیٹھ کر کیے جا رہے ہیں۔ اسی احساسِ محرومی نے عوامی غصے کو باقاعدہ اور منظم مسلح مزاحمت کا روپ دے دیا ہے۔
بدخشاں میں ابھرنے والی مزاحمت کی دو نمایاں جہتیں ہیں۔ ایک طرف جمعہ خان فتح جیسے سابق طالبان کمانڈر ہیں جن کا اختلاف بنیادی طور پر معاشی مفادات اور سیاسی اثر و رسوخ کی تقسیم پر ہے۔ دوسری طرف تقریباً ڈیڑھ سو عام مقامی نوجوانوں کا بغیر کسی عسکری و سیاسی ایجنڈے کے پہاڑوں کا رخ کرنا ہے۔ یہ دوسری قسم کی تحریک کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ اجتماعی ناگواری کی پیداوار ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی نچلی سطح کی عوامی تحریکوں کو دبانا کسی ایک کمانڈر کی بغاوت کچلنے سے کہیں زیادہ دشوار ہوتا ہے۔
سکیورٹی فورسز کا ردِعمل جیسے گھر گھر تلاشیاں، گرفتاریاں اور اضافی نفری کی تعیناتی روایتی طاقت کے استعمال کی عکاسی کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی پائیدار نتائج نہیں دے رہی۔ کسی ضلعی مرکز پر عارضی کنٹرول حاصل کر لینا کامیابی نہیں کہلاتا جب تک کہ مقامی آبادی کا اعتماد بحال نہ ہو۔ دوسری جانب افغانستان فریڈم فرنٹ جیسے گروپوں کے منظم حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مزاحمت اب مقامی جھڑپوں سے نکل کر مربوط شکل اختیار کر رہی ہے۔
طالبان قیادت کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے اس مرکزیت پسند ماڈل پر نظرثانی کرے گی یا طاقت کے ذریعے عارضی خاموشی کو ہی حتمی حل سمجھنے کی غلطی دہرائے گی؟ افغان تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی صوبائی شناختوں اور مقامی حقوق کو نظرانداز کیا گیا، ملک بدامنی کا شکار ہوا۔ اگر طالبان نے سیاسی مفاہمت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی نمائندگی کا راستہ نہ اپنایا تو بدخشان کا یہ اشتعال پورے شمال مشرقی افغانستان میں ایک وسیع قومیتی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
بدخشاں کی چنگاری ابھی شعلہ نہیں بنی، مگر تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ نظرانداز کی گئی چنگاریاں اکثر وہی آگ بھڑکاتی ہیں جسے بجھانا بعد میں ناممکن ہو جاتا ہے۔