حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حوثی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی یمن میں سعودی اتحادی افواج کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری یا خبر رساں اداروں نے اس حملے کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، تاہم جازان صوبے میں قومی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ خطرے سے متعلق الرٹ جاری کیا گیا۔
سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جازان اور ینبع کے علاقوں میں خطرہ مکمل طور پر ٹل چکا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ الرٹ کے کچھ ہی دیر بعد دونوں علاقوں کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے شہریوں اور مقیم افراد پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی ہدایات پر مسلسل عمل پیرا رہیں۔
جوابی کارروائی
اس پیش رفت سے قبل سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے ساحلی گورنریٹ حدیدہ میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔ ترکی المالکی کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کا سدِباب کرنا تھا، جبکہ حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام بندرگاہیں کھلی ہیں۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور سعودی تیل بردار جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سے خطے میں عسکری کشیدگی میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دیکھیے: ایران کا امریکی حملوں میں جانی نقصان اور ایمیزون ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ