یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے شہر ینبع میں خام تیل کی سپلائی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اہم تنصیبات کو متعدد ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
حوثی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی سعودی ڈرونز کی جانب سے یمن کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کا مقصد سعودی خام تیل کی ترسیل سے متعلق اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔
سعودی مؤقف
دوسری جانب سعودی وزارت دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے، ریاض اور دیگر حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے والے تمام حملہ آور ڈرونز فضا ہی میں تباہ کر دیے، جس کے باعث کوئی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الزام عائد کیا کہ یہ ڈرون حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ملوث تھے۔ ان کے مطابق سعودی مسلح افواج کو ایسے حملوں کا مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
پاکستان کی مذمت
پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے، جو خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان برادر مملکت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کی ایک اور کڑی ہے، جہاں یمن، سعودی عرب اور علاقائی طاقتوں کے درمیان تناؤ بدستور موجود ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے تحمل اور بات چیت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
دیکھیے: امریکہ کے پاس ضرورت سے زیادہ اسلحہ موجود ہے: صدر ٹرمپ