طالبان مخالف مزاحمت میں شدت آتی جا رہی ہے، بدخشاں اور پنجشیر کے بعد اب افغانستان کا صوبہ نیمروز بھی مزاحمتی کارروائیوں کا میدان بن گیا ہے۔ نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نامی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ نیمروز کے ضلع کنگ میں طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا، جس میں 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہوئے۔
شمالی لبریشن فرنٹ کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے ضلع زیبک میں طالبان کے حملوں کو پسپا کیا اور اس کے بعد دو مختلف سمتوں سے جوابی کارروائی کی۔ فرنٹ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جھڑپوں کے نتیجے میں 5 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 4 دیگر زخمی ہوئے، جس کے بعد طالبان فورسز علاقے سے پیچھے ہٹ گئیں۔
انڈیپنڈنس فرنٹ دعویٰ
دوسری جانب افغانستان کے نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ نیمروز کے ضلع کنگ میں طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا۔
فرنٹ کے مطابق اتوار کی شب ایک پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کارروائی ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے نتیجے میں 10 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد دیگر شدید زخمی ہوئے۔
قبضے کا دعویٰ
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجو ضلع کنگ کی عمارت میں داخل ہوئے، جہاں سے طالبان کا کچھ اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا، جبکہ طالبان کی عمارت اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد فرنٹ کے جنگجو بغیر کسی جانی نقصان کے علاقے سے واپس نکل گئے اور اپنی پوزیشنوں پر پہنچ گئے۔
مزاحمت میں شدت
مقامی ذرائع نے صوبہ نیمروز کے ضلع کنگ میں فائرنگ اور شدید جھڑپوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔ بدخشاں، پنجشیر کے بعد اب نیمروز میں سامنے آنے والے یہ دو الگ الگ واقعات افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروپوں کی سرگرمیوں میں تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔