جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

September 19, 2026

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

September 18, 2026

پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر: لیبر قوانین پر عمل، عالمی خریداروں کا اعتماد بحال

پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری نے عالمی لیبر قوانین پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی، 33 فیصد عالمی خریداروں نے برآمدات بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر: لیبر قوانین پر عمل، عالمی خریداروں کا اعتماد بحال

July 28, 2026

عالمی تنظیم لیبر بی ہائنڈ لیبر کی جانب سے پاکستانی گارمنٹ انڈسٹری میں اجرتوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک رپورٹ سامنے آئی تھی۔ تاہم پاکستان کے ایکسپورٹ اورینٹڈ ٹیکسٹائل اداروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مقامی صنعتیں عالمی لیبر، ماحولیاتی اور پائیداری کے معیار کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

عالمی ادارے آئی ایل او کی بیٹر ورک سنتھیسز رپورٹ (2022–2025) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ برآمدی فیکٹریوں میں قوانین پر عمل درآمد کا تناسب بلند رہا، جہاں 2025 میں کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی کا تناسب 4.6 فیصد اور اوور ٹائم کی ادائیگی نہ ہونے کا تناسب صرف 2.3 فیصد رہا۔

رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کی بدولت بین الاقوامی خریداروں کے اعتماد میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور سروے میں شامل 33 فیصد عالمی خریداروں نے اگلے دو سے تین سالوں میں پاکستان سے برآمدات بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کی نمایاں ٹیکسٹائل کمپنیوں کی جانب سے مزدوروں کی فلاح، مساوی حقوق اور شفافیت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

انٹرلوپ لمیٹڈ نے صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنے بورڈ میں 44 فیصد اور ایگزیکٹو لیڈرشپ میں 25 فیصد خواتین کی نمائندگی شامل کی ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ و فنی تعلیم کے لیے 650 سے زائد اسکالرشپس اور کپاس کے کاشتکار علاقوں میں موبائل ہیلتھ کلینکس کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

گل احمد نے چائلڈ اور فورسڈ لیبر کی روک تھام اور ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی ہے، جبکہ 2026 تک 15 فیصد خواتین ورک فورس اور 1,500 سے زائد نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

سورٹی انٹرپرائزز اپنے پرزم پروجیکٹ کے ذریعے معذور افراد کو روزگار اور تربیت فراہم کر رہی ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں جے پی ایم سی کے سائیکاٹرک انسٹی ٹیوٹ اور موسیٰ سورٹی سینٹر کے ذریعے سالانہ ہزاروں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت مل رہی ہے۔ نشاط ملز تمام ملازمین کو بلا تفریق مساوی مواقع اور پیشہ ورانہ تحفظِ صحت کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔

لبرٹی ملز 200 معذور افراد کو روزگار اور 1,500 معذور بچوں کی بحالی میں معاونت کر رہی ہے، جبکہ 3,100 سے زائد طلبہ کو تعلیم اور سالانہ 14 لاکھ سے زیادہ افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ فیروز 1888 ملز اپنے انتظامی ملازمین کی مسلسل تربیت اور کمیونٹی سرگرمیوں پر عمل پیرا ہے۔ کریسنٹ باہومان ملازمین کی رہائش، ہیلتھ کیئر اور کریسنٹ اسکول کے ذریعے 1,200 بچوں کی تعلیم کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔

کمال لمیٹڈ نے پنجاب حکومت کے تعاون سے ملازمین کو راشن کارڈز کی فراہمی اور ریسکیو 1122 کے ساتھ ایمرجنسی مشقوں کا اہتمام کیا ہے۔ گوہر ٹیکسٹائل ملز اپنے ملازمین کو مفت ٹرانسپورٹ، سبسیڈائزڈ کھانا اور طبی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

ڈائمنڈ فیبرکس میں ملازمین کی ویلنس کے پروگرامز چلائے جا رہے ہیں، جبکہ سیفائر فنشنگ ملز نے ڈیف ریچ پروگرام کے تحت 150 سے زائد معذور افراد کو روزگار فراہم کیا ہے۔ مسعود ٹیکسٹائل ملز اور یوٹوپیا انڈسٹریز کی جانب سے بھی سپلائی چین رسک مینجمنٹ، انسانی حقوق کے تحفظ اور سیفٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

September 19, 2026

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *