بھارت، جو دہائیوں سے خود کو دنیا اور اپنے خطے کا ایک طاقتور، مستحکم اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، آج ایک ایسے مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں دعوے اور زمینی حقیقت میں فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت اس وقت دو الگ الگ مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحرانوں کا شکار ہے: ایک اندرونِ ملک نوجوان نسل کی بڑھتی ہوئی بے چینی، اور دوسرا بیرونِ ملک بھارتی نژاد گروہوں کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے تسلسل نے بھارت کی عالمی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
اندرونی محاذ
بھارت میں حالیہ ہفتوں کے دوران طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریکیں کسی اچانک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ برسوں سے غیر منصفانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ 25 جولائی کو شروع ہونے والی یہ تحریک، جس کی قیادت مختلف طلبہ تنظیموں نے کی، اصل میں امتحانی نظام میں مسلسل گراوٹ، پرچہ لیک کے مسلسل واقعات اور تعلیمی معیار میں گراوٹ کے خلاف ایک ردعمل تھی۔ مختلف ریاستوں میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے، جس کے بعد حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔
مذاکرات میں حکومت نے گرفتار کارکنوں کی رہائی، مقدمات کی واپسی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے وعدے کیے۔ مگر ان وعدوں پر عمل درآمد سست روی کا شکار رہا، اور بعض معاملات میں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب مودی حکومت کو اپنے ہی وعدوں کی وجہ سے عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2020 میں کسانوں کے خلاف متعارف کرائے گئے متنازع زرعی قوانین اس کی واضح مثال ہیں، جنہیں کسانوں نے اپنے مفادات کے خلاف قرار دیا اور طویل احتجاج کے بعد بالآخر حکومت کو یہ قوانین واپس لینا پڑے۔
اسی طرح مودی حکومت کا ایک اور بڑا وعدہ “ہر سال دو کروڑ نئی نوکریوں کی فراہمی” برسوں گزرنے کے باوجود کاغذات تک محدود رہا۔ آج بھی لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے دربدر ہیں۔ یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلہ ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی کے انداز کا حصہ بن چکا ہے۔
اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عوام میں اپنے حقوق سے متعلق شعور بڑھا ہے۔ لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ اگر وہ متحد ہو کر آواز اٹھائیں تو تبدیلی ممکن ہے۔ مگر ساتھ ہی حکومت پر اعتماد میں کمی بھی واضح ہے ایک ایسا رجحان جو کسی بھی جمہوریت کے لیے تشویشناک سمجھا جاتا ہے۔
بیرونی محاذ
اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر بھی سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ کینیڈا میں حالیہ کارروائیوں نے اس تشویشناک رجحان کو ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے۔
کینیڈین حکام کے مطابق پروجیکٹ بے کے نام سے اٹھارہ ماہ پر محیط ایک طویل آپریشن کے دوران بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیوروں سمیت 19 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی میں 101 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی 1.87 ٹن غیر قانونی منشیات، اسلحہ، ایک اینٹی ٹینک لانچر اور دیگر غیرقانونی اشیاء برآمد ہوئیں۔ کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی، اونٹاریو پولیس، اور امریکی اداروں بشمول ڈی ای اے کی مشترکہ تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزمان قانونی تجارتی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے منشیات کی سرحد پار ترسیل میں ملوث تھے۔
اونٹاریو پولیس کے چیف سپرنٹنڈنٹ کے بقول یہ صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے، اور اس سے نہ صرف منشیات کی ترسیل رکی بلکہ منظم جرائم کی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ کینیڈین ماہرین اسے کسی مقامی یا وقتی جرم کی بجائے ایک وسیع تر منظم مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
یہ واحد واقعہ نہیں۔ اسی دوران ایڈمنٹن میں 23 سالہ بھارتی خاتون دمن پریت کور کے قتل کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس میں ملزم بھی بھارتی نژاد نکلا۔ ایسے واقعات کا تسلسل، خواہ منظم جرائم کی صورت میں ہو یا انفرادی تشدد کی، بھارتی تارکینِ وطن کمیونٹی سے جڑے سنگین مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو بار بار عالمی میڈیا کی سرخیوں میں جگہ بنا رہے ہیں۔
دعوے اور حقیقت
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اگر بھارت واقعی ایک ذمہ دار اور مستحکم عالمی طاقت ہے، تو اس کے شہریوں کا نام بار بار دنیا کے مختلف ممالک میں منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور تشدد کے واقعات میں کیوں سامنے آتا ہے؟ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تسلسل کمزور نگرانی، سست احتسابی نظام اور مؤثر پالیسی سازی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
بھارت اپنے آپ کو خطے کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اندرونِ ملک نوجوانوں کی بے روزگاری، وعدہ خلافی، احتجاجی تحریکوں کا بار بار جنم لینا، اور اقلیتوں سے متعلق امتیازی سلوک کے واقعات یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو حکومتی بیانیے سے میل نہیں کھاتی۔ اسی طرح بیرونِ ملک بھارتی نژاد افراد کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے مسلسل انکشافات، حکومت کی داخلی و خارجی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
قول و فعل کا یہی تضاد ہے جو آج مودی حکومت کی ساکھ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ محض بلند و بانگ دعوؤں اور بین الاقوامی فورمز پر خطابات سے کسی ملک کی حقیقی طاقت ثابت نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اس بات میں ہے کہ حکومت اپنے نوجوانوں کو روزگار، تعلیمی نظام کو شفافیت، اور اقلیتوں کو مساوی تحفظ فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، اور یہ کہ وہ اپنے شہریوں کے بیرونِ ملک کردار پر کس حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔
جب تک یہ بنیادی سوالات حل طلب رہیں گے، طاقتور بھارت کا دعویٰ محض ایک سیاسی بیانیہ ہی رہے گا ۔۔۔۔ زمینی حقیقت نہیں۔
دیکھیے: بھارت: کاکروچ پارٹی نے پولیس کارروائیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی