پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے درمیان تعلقات کو اعتماد، باہمی تعاون اور مشترکہ قومی مفادات پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ جاری کیے گئے ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مختلف شعبوں میں مسلسل تعاون فراہم کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق بجلی، آٹے اور دیگر بنیادی ضروریات پر دی جانے والی سبسڈیز اس تعاون کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ملک میں شدید معاشی دباؤ کے باوجود آزاد کشمیر کے عوام کے لیے خصوصی سہولیات اور معاشی آسانیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق قوانین پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ اقدامات مقامی آبادی، وسائل اور خطے کی منفرد شناخت کے تحفظ کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے مقامی زمین، قدرتی وسائل اور عوامی مفادات کے تحفظ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کی ریاست آزاد کشمیر کو صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور تاریخی امانت کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس سلسلے میں انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبوں، سبسڈیز اور ادارہ جاتی معاونت کو اپنی بنیادی اولیت قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں خطوں کا یہ مضبوط تعلق مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد اور عظیم قربانیوں پر قائم ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے شریک ہیں، اور یہی وابستگی ہر مشکل وقت میں اس رشتے کو مزید مستحکم بناتی ہے۔