لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

یوناما رپورٹ: طالبان دور میں جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا انکشاف

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں، خواتین و اقلیتوں پر عائد جابرانہ پابندیوں اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
طالبان دور میں جبر، پابندیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا انکشاف: یوناما رپورٹ

یو این اے ایم اے کی اپریل تا جون 2026 کی رپورٹ میں افغانستان کے اندر انسانی حقوق کی ابتر صورت حال، صحافیوں اور خواتین پر طالبان کی پابندیوں کو طشت از بام کر دیا گیا ہے۔

July 30, 2026

اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما ) نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال (اپریل تا جون 2026) کے حوالے سے اپنی سہ ماہی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں طالبان انتظامیہ کے زیرِ اثر ملک بھر میں انسانی حقوق کے مسلسل بگاڑ، سنسرشپ، مذہبی آزادیوں پر سلب اور خواتین و اقلیتوں پر عائد سخت پابندیوں کی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔

یوناما کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے میڈیا پر بدستور سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ متعدد ریڈیو اسٹیشنز اور ذرائع ابلاغ کے ادارے بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ صحافیوں کی من مانی گرفتاریوں، میڈیا دفاتر کی تلاشی اور مواصلاتی آلات کی ضبطی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین پر بھی اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ معلومات کی فراہمی پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے دور میں خواتین اور کمسن لڑکیاں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ ہیں۔ نام نہاد فرمان نمبر 18 کے تحت شادی، طلاق اور علیحدگی جیسے نجی امور میں خواتین کے قانونی اور بنیادی حقوق کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ جامعات سے اخراج اور لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے ساتھ ساتھ حجاب کے سخت نفاذ، محرم کی شرط اور سماجی نگرانی کا نظام بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ بغیر محرم خواتین کو دکانوں اور اسپتالوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے، جبکہ نامناسب حجاب کے الزامات کے تحت خواتین کی حراست کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

اخلاقی و سماجی نگرانی کے جابرانہ نظام کے تحت موسیقی سننے، داڑھی چھوٹی رکھنے اور اخلاقی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر سینکڑوں افراد کو سزائیں دی گئیں۔ رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق کم از کم 137 افراد کو کوڑوں سمیت دیگر جسمانی سزائیں دی گئیں، جبکہ رمضان کے دوران روزے کی خلاف ورزی کے الزام میں بھی شہریوں کو سرعام کوڑے مارے گئے۔

مزید برآں، سابق حکومتی و سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں، تشدد، من مانی حراستیں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جس کا مقصد ہر قسم کے سیاسی و فکری اختلافِ رائے کو دبانا ہے۔

اقلیتوں اور مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بدخشان کے علاقے میں اسماعیلی عبادت گاہوں کو بند یا مساجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ شیعہ کمیونٹی کے مذہبی ایام بالخصوص عاشورا کی تقریبات پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، مواصلاتی خدمات معطل رکھی گئیں اور متعدد شیعہ عقیدت مندوں کو حراست میں لیا گیا۔

بدخشاں میں ایک احتجاج کے دوران 9 سالہ بچے کی ہلاکت نے شہریوں کے خلاف بلا دریغ طاقت کے استعمال کو بھی طشت از بام کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں اور جابرانہ قوانین طالبان حکمرانی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *