سقوطِ کابل کے تقریباً پانچ سال بعد جنرل سمیع سادات، سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی اور جمہوریہ افغانستان کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ منظرِ عام پر آ گئے۔ انہوں نے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے اعلان کیا کہ ان کی قیادت میں طالبان حکومت کے خلاف آئینی نظام کی بحالی کے لیے مسلح کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اعلان کی تفصیلات
جنرل سمیع سادات کے اعلان کے بعد طالبان حکومت کو ایک نئی منظم مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔ طالبان کے اقتدار کے چار سال، گیارہ ماہ اور پندرہ دن بعد جنرل سادات پہلی بار سابق افغان نیشنل آرمی کی وردی میں سامنے آئے، جسے انہوں نے افغانستان کی قومی سلامتی و دفاعی افواج کی جنگی روایت اور ناقابلِ تسخیر قومی عزم کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے افغانستان کی آزادی کے لیے مسلح مزاحمت ہی واحد مؤثر راستہ رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں طالبان جنگجوؤں، فوجی اڈوں اور قیادت کو ہدف بنایا جائے گا، جس کے بعد مہم کو پورے ملک تک وسعت دی جائے گی۔
طالبان حکومت پر الزامات
جنرل سادات نے کہا کہ طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً پانچ برسوں سے افغان عوام کو جبر، خوف اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت نے افغانستان کو القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے، جو خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
جنرال سمیع سادات، بعداز گذشت ۵ سال از سقوط جمهوریت با یونیفورم اردو ملی افغانستان و با پرچم سه رنگ جمهوریت از آدرس جبهه متحد افغانستان در رسانهها حاضر شد و در نخستین حضور اش به زبان انگلیسی برای مردم افغانستان و جهان بیانیه ای به نشر رساند در آن از آغاز عملیات نظامی جبهه متحد،… pic.twitter.com/5rAn5p7tHW
— Mujib Karimi (@MujibullahKarim) August 1, 2026
مزید برآں، انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ طالبان حکومت افغانستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے اور قومی دولت کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری سے اپیل
جنرل سادات نے سابق افغان قومی سلامتی و دفاعی افواج کے اہلکاروں، سیاسی رہنماؤں اور افغان عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریہ افغانستان کے سہ رنگی پرچم تلے متحد ہو کر افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ بین الاقوامی برادری سے سیاسی اور مادی تعاون کا خواہاں ہے، تاہم غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی نہیں چاہتا، کیونکہ افغانستان کی آزادی افغان عوام خود حاصل کریں گے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ طالبان، القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، جبکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
پس منظر
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ 2023 میں امریکا میں قائم کیا گیا تھا اور اب تک بنیادی طور پر سیاسی سرگرمیوں تک محدود رہا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم نے کسی مسلح کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کا اقتدار پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے اور افغانستان فریڈم فرنٹ اور سپاہِ میہن جیسی دیگر مزاحمتی تنظیمیں بھی بدخشاں اور دیگر شمالی صوبوں میں اپنی عسکری کارروائیاں بڑھا چکی ہیں۔