خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے آپریشن 11 گرج کے تحت باجوڑ اور خیبر میں 10 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلی کارروائی ضلع باجوڑ کے علاقے شکرو میں انجام دی گئی جہاں دو شدت پسند مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عناصر نے کارروائی سے بچنے کے لیے مقامی مساجد میں پناہ لے رکھی تھی، تاہم فورسز نے درست معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں انجام تک پہنچایا۔
اسی سلسلے کی دوسری بڑی کارروائی ضلع خیبر کے علاقوں دربی خیل اور بٹان میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ مزید آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں بنوں، باجوڑ اور خیبر ایجنسی سمیت ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کا تانا بانا اور منصوبہ بندی افغان سرزمین سے جڑی ہوئی ہے، جہاں سے کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کو مسلسل محفوظ پناہ گاہیں اور امداد میسر آ رہی ہیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ سرحدی پار سے جاری اس دراندازی اور حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے آپریشن 11 گرج شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد علاقے کو ان شدت پسند عناصر سے پاک کرنا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔