افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع یافتلِ پایین میں طالبان کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ 11 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت اور عوامی احتجاج کی لہر میں مسلسل شدت آتی جا رہی ہے۔
مزاحمتی گروہوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں شمالی اضلاع میں طالبان کے خلاف کئی اہم آپریشن کیے ہیں، تاہم طالبان انتظامیہ نے ان دعوؤں کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔
بدخشاں کے بعد اب جنوب کے اہم ترین مرکز قندھار میں بھی طالبان مخالف عناصر کی موجودگی کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس سے عوامی بے چینی اور انتظامی کشیدگی کے ملک گیر پیمانے پر پھیلنے کے اشارے ملتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بدخشاں میں ہلاکتوں کے بعد بننے والی صورتحال کو مزید ہوا افغان نیشنل یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات کے تازہ ترین اعلان سے ملی ہے۔ جنرل سمیع سادات نے گزشتہ روز طالبان کے خلاف باضابطہ طور پر مسلح کارروائیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد طالبان مخالف سرگرمیوں اور جھڑپوں کی شدت میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
نیز جنرل سمیع سادات کا متحرک ہونا اور بدخشاں میں مظاہرین پر طالبان کا تشدد یہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں طالبان کو نہ صرف عوامی سطح پر شدید مقاومت کا سامنا ہوگا بلکہ مسلح محاذ آرائی بھی خطے کے امن کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم، تمام عسکری دعوؤں اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق کا عمل جاری ہے۔
دیکھیے: جنرل سمیع سادات نے طالبان رجیم کے خلاف عسکری کارروائیوں کا اعلان کر دیا