وادی تیرہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے مکمل کیے گئے آپریشن کے بعد، خوارج اور ان کے معاون پراپیگنڈا نیٹ ورکس نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ ان نیٹ ورکس کی جانب سے یہ دعویٰ پھیلایا جا رہا ہے کہ آپریشن کے دوران ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کیا جا سکے۔
خوارج کی یہ دیرینہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ اپنے دہشت گردانہ اقدامات اور بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کو چھپانے کے لیے مذہبی علامات اور مقدس شعائر کا سہارا لیتے ہیں۔ جو عناصر مساجد کو نشانہ بناتے ہیں، نمازیوں پر حملے کرتے ہیں اور بے گناہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں، ان کا اسلام کی حفاظت اور دینی اداروں کی پاسداری کا دعویٰ مکمل طور پر باطل اور حقیقت کے برعکس ہے۔
حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش
ہر کامیاب انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے بعد خوارج عالمی رائے عامہ اور مقامي آبادی کو بدظن کرنے کے لیے جذباتی بیانیے تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی اس اطلاعاتی جنگ کا بنیادی مقصد ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور خود کو مظلوم ثابت کرنا ہے، جبکہ حقیقت میں دینی اداروں اور مدرسوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ خود یہی دہشت گرد ہیں جو ان سائٹس کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ریاستی مؤقف
سکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کا فیصلہ خوارج کے پروپیگنڈے کے بجائے صرف اور صرف مستند شواہد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی روشنی میں ممکن ہے۔ پاکستان کی ریاست کی یہ جنگ کسی دینی تعلیم، مدرسے یا عام شہری کے خلاف ہرگز نہیں، بلکہ اس کا واحد مقصد ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ناسور سے پاک کرنا ہے۔