طالبان انٹیلی جنس کی لیک ہونے والی دستاویزات نے افغان حکومت کے ایک منظم اور کروڑوں ڈالر مالیت کے خفیہ میڈیا پروگرام کی قلعی کھول دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت افغانستان سے باہر موجود تجزیہ کاروں، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور میڈیا کارکنوں کو بھاری مالی معاونت فراہم کر کے طالبان کی پالیسیوں کا دفاع اور عالمی بیانیے کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لیک شدہ دستاویزات کے مطابق افغانستان سے باہر مقیم کم از کم 15 اہم تجزیہ کاروں، یونیورسٹی پروفیسرز، صحافیوں، میڈیا کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد کے لیے ماہانہ 1 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر تک کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ دستاویزات میں ان افراد کو ساتھی قرار دیا گیا ہے، جن کی بنیادی ذمہ داری میڈیا پر طالبان پالیسیوں کا دفاع، مخالف بیانیوں کا توڑ اور مربوط سوشل میڈیا مہمات چلانا ہے۔
سامنے آنے والی دستاویزات میں اس میڈیا آپریشن اور تاثر سازی کے پروگرام کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ امریکی ڈالر کا بھاری بجٹ مختص کیے جانے کا بھی سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت افغان عوام کو درپیش شدید معاشی بحران، جبر، سخت پالیسیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پابندیوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی عالمی ساکھ کو سدھارنے اور پروپیگنڈے پر تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی بحالی پر سرمایہ کاری کے بجائے لاکھوں ڈالر ایسے میڈیا نیٹ ورکس پر نچھاور کیے جا رہے ہیں جن کا واحد مقصد طالبان حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور بین الاقوامی سطح پر جعلی مثبت تاثر قائم کرنا ہے۔
اگرچہ دستاویزات میں شامل افراد کو رقوم کی منتقلی کا طریقہ کار واضح نہیں، تاہم بعض نامزد افراد سوشل میڈیا اور میڈیا انٹرویوز میں طالبان کا کھل کر دفاع کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے گزشتہ سال بھی افغان میڈیا اداروں کو منظور شدہ تجزیہ کاروں کی ایک فہرست فراہم کر کے انہیں ٹی وی پروگراموں میں مدعو کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، اور نئی دستاویزات کے متعدد نام اسی سابقہ فہرست سے ملتے جلتے ہیں۔
یہ تمام شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان بیرونِ ملک معاوضہ لینے والی آوازوں کا ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو مخالفین کا بیانیہ کمزور کر کے ان کے ذاتی و سیاسی مفادات کو تقویت دے سکے۔