افغانستان کے صوبہ لوگر میں ایک خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ بیس سالہ جنگ کے دوران جن طالبان جنگجوؤں کی انہوں نے مدد کی تھی، آج انہی کے ہاتھوں ان کا گھر مسمار کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان نے اس تلخ واقعے کے بعد طالبان کی ماضی میں کی جانے والی حمایت پر شدید پچھتاوے کا اظہار کیا ہے۔
خاندان کے سربراہ نے نجی چینل کو بھیجے گئے پیغام میں بتایا کہ انہوں نے ماضی میں طالبان جنگجوؤں کی پناہ کے لیے گھر تعمیر کیا تھا، لیکن اس تمام تر تعاون کے باوجود ان کا اپنا مسکن تباہ کر دیا گیا۔
دغه کورنۍ وايي، د لوګر ولايت لپاره طالب جنګياليو يې جوړ کړی کور بېرته نړولی دی.
— ZAWIA NEWS (@ZawiaNews) August 7, 2026
د دغې کورنۍ يو مشر زاويه نيوز ته په استولي دې پيغام کې ويلي، په تېره شل کلنه جګړه له طالبانو سره په مرستې پښيمانه يوو: «هغوی چې پيسې ورکوي هېڅ ورته نه وايي او موږ چې پيسې نلرو ټوله ابادي يې راته… pic.twitter.com/MPs4Rlmcz1
متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ پیسے دینے والے بااثر افراد کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جاتا، جبکہ ان جیسے غریب لوگوں کا پورا گاؤں مسمار کر دیا گیا ہے۔
خاندان کے مطابق ان کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی غریب آبادی کو کس شدید دباؤ اور بے حسی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں تمام تر خطرات کے باوجود طالبان کا ساتھ دینے کے باوجود انہیں کوئی تحفظ یا رعایت نہیں ملی، بلکہ ان کی ذاتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کی طرف سے کسی قسم کی بلاوجہ مزاحمت نہ کیے جانے کے باوجود یہ بے جا ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کسی مزاحمت کے بغیر ان کے حامیوں اور غریب شہریوں کے ساتھ یہ سلوک ہے، تو طالبان کے عملی مخالفین کے ساتھ وہاں کیا رویہ رکھا جاتا ہوگا؟
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے طرزِ حکمرانی اور شہریوں پر مظالم کے حوالے سے ایسے دعوے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔
دیکھیے: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری اقدامات کرے: پاکستان