بنوں کے شہریوں نے ضلع کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے کا صدر مقام بنوں ہونا چاہیے۔
بنوں کے قریب شمالی وزیرستان، لکی مروت اور کرک واقع ہیں۔ اس محل وقوع سے آبادی کا ہدف بھی پورا ہوتا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ بنوں کو ڈیرہ اسماعیل خان سے نہ ملایا جائے۔ ڈیرہ اسماعیل خان یہاں کے لوگوں کے لیے کافی دور پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ڈیرہ، ٹانک اور وزیرستان کا الگ صوبہ بنایا جائے۔ بنوں ایک اہم تجارتی شہر ہے، اس لیے اسے الگ درجہ دیا جائے۔
شہریوں نے کہا کہ خطہ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے خود کفیل ہے۔ سابق صدر غلام اسحاق خان اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کا تعلق یہیں سے تھا۔ صوبے کے موجودہ چیف سیکرٹری اور درجن بھر ڈپٹی کمشنرز کا تعلق بھی بنوں سے ہے۔ اس کے علاوہ لکی مروت کے سیف اللہ برادران اور شیر افضل تجربہ کار قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔
شہریوں نے انتظامی نظام پر بھی تجویز دی ہے۔ نیا ڈھانچہ بنانے کے بجائے موجودہ کمشنر اور ڈی سی نظام کو ضم کیا جائے۔ صوبے کو آئی جی اور ضروری فنڈز فراہم کیے جائیں۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے سے عام شہریوں کی رسائی آسان ہوگی۔