پشاور: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز اور بدامنی کے پے در پے واقعات کے دوران صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کی شہادت کے باوجود حکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
سینئر صحافی حسن خان نے اپنے حالیہ تجزیے میں صوبائی حکومت کی ترجیحات پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ تاریخ کے بدترین امن و امان کے بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے نازک حالات کے باوجود قیادت زمینی حقائق سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جس رات صوبے میں چالیس شہداء کے جسد خاکی موجود تھے، اس وقت کی ترجیح مختلف تھی۔ ان میتوں میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے سینئر افسران اور جوان شامل تھے۔
حسن خان کے مطابق اس سنگین صورتحال کے باوجود صوبے کے وزیراعلیٰ گاڑی لے کر لاہور روانہ ہو گئے۔ انہوں نے نہ تو کسی شہید کے جنازے میں شرکت کی اور نہ ہی ان کے غمزدہ اہلِ خانہ سے ملنے گئے۔
تجزیہ کار نے مزید بتایا کہ لاہور جا کر سیاسی قیادت کے اہلِ خانہ سے ملاقاتوں اور انہیں پشاور لانے کی باتیں کی گئیں۔ اس تمام دورے میں صوبے کے اپنے امن و امان کے حالات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
صحافی کے مطابق پشاور کے سرکاری و سیاسی حلقوں میں اس وقت تمام تر گفتگو صرف سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ پر ہو رہی ہے۔ سیکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے ایجنڈے کو عملی طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
حسن خان کا کہنا تھا کہ کل کو اگر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی ہو تو جمہوریت کو خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عوام کی جان و مال کے تحفظ کی بنیادی فکر ہی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ حکومتی اقدامات سے عام شہریوں اور فورسز کا اعتماد شدید متاثر ہو رہا ہے۔
تجزیہ کار نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو امن کا قیام ناممکن ہو جائے گا۔ صوبائی قیادت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات درست کر کے سیکیورٹی اداروں کی مکمل پشت پناہی کرنی چاہیے تاکہ بدامنی کا مؤثر تدارک ہو سکے۔