ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر انسٹی ٹیوٹ مشعل پاکستان نے ملک کی پہلی شہری بنیاد پر تیار کردہ اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی ان پاکستان رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان کے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 2,000 افراد کے سروے اور تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی اور جواز متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد محض تاثرات کے بجائے حقیقی شواہد کی بنیاد پر ادارہ جاتی کارکردگی، گورننس کے معیار اور عوامی اعتماد کو پرکھنا ہے۔
نوجوانوں کی نمائندگی
رپورٹ کے مطابق ملک کا مستقبل نوجوان نسل سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ سروے میں شامل 80 فیصد افراد کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔
اداروں پر اعتماد کے حوالے سے مسلح افواج 82 فیصد اعتماد کے ساتھ سرِفہرست رہیں، جبکہ 54 فیصد شہریوں نے ملک میں ڈیجیٹل گورننس کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ریگولیٹری اداروں میں ایف بی آر کے بارے میں آگاہی 95 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پی ٹی اے اور ایچ ای سی کے لیے یہ شرح 90 فیصد رہی۔ تاہم صرف 7 فیصد شہری ہی ریگولیٹری فیصلوں کے خلاف اپیل کے طریقہ کار سے واقف نکلے، جو عوامی آگاہی کی اشد ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
کاروباری طبقے کی جانب سے مکمل ڈی ریگولیشن کے بجائے انتظامی پیچیدگیوں میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا، جہاں 76 فیصد تاجروں نے کاغذی کارروائی کو کاروبار میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
مشعل پاکستان نے اس موقع پر سالانہ پاکستان ٹرانسپیرنسی انڈیکس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کے ذریعے ہر سال گورننس میں پیشرفت کا مسلسل اور منظم جائزہ لیا جا سکے گا۔
دیکھیے: مالی شفافیت پاکستان کا داخلی معاملہ، بھارت دوہرے معیار ختم کرے: پاکستان