افغانستان کے ضلع بدخشاں میں طالبان قیادت کے درمیان اندرونی اختلافات اور کشیدگی کے نتیجے میں سینئر کمانڈر جمعہ خان فاتح کے داماد کے قتل کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے جمعہ خان فاتح کے داماد کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ کوفآب ضلع کی جانب جا رہے تھے۔ حراست میں لینے کے کچھ ہی دیر بعد انہیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سنگین واقعہ جمعہ خان فتح اور طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے شدید اختلافات کا شاخسانہ ہے۔ دونوں دھڑوں میں جاری اس تنازع نے مقامی سطح پر طالبان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ خان فاتح پر الزام ہے کہ وہ طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کے واضح احکامات اور پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدخشاں میں واقع سونے کے قیمتی ذخائر سے غیر قانونی کان کنی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بدخشاں کے قدرتی وسائل اور سونے کے ذخائر پر قبضے کی جنگ طالبان کی اندرونی دراڑ کو مزید گہرا کر رہی ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں خطے میں مزید پرتشدد واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔
دیکھیے: طالبان کا خفیہ کھیل بے نقاب، 70 ای ٹی آئی ایم جنگجو ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل