کسی بھی ریاست کے وجود کی سب سے بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا سکے۔ جب کوئی مسلح گروہ اس بنیادی فریضے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے، دھماکوں اور خون خرابے کے ذریعے ریاستی رٹ کو چیلنج کرے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے، تو ایسی قوت کو کسی بھی صورت مزاحمت یا جدوجہد کا خوش نما لبادہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ فتنہ الخوارج بھی بعینہٖ ایسی ہی ایک قوت ہے جس نے دسمبر 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے پاکستان کے خلاف مسلسل خونریزی کا بازار گرم رکھا ہوا ہے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس تنظیم نے سینکڑوں دہشت گرد حملوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہریوں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور معصوم طلبہ کو موت کے گھاٹ اتارا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ آج بھی پوری قوم کے دل پر نقش ایک ایسا زخم ہے جو اس تنظیم کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ہی فضول ہے کہ آیا فتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے سوا کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، اور پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ بھی اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ اس تنظیم کے اپنے اعمال کا فطری نتیجہ ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ تنظیم اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے کبھی کبھار نظریاتی یا علاقائی دعوے بھی گھڑ لیتی ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان کو فرضی صوبے قرار دینا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ نہ ان علاقوں کے عوام نے کبھی اس تنظیم کو کوئی مینڈیٹ دیا، نہ اسے کسی قسم کا انتظامی کنٹرول حاصل ہے۔ محض دعوے کی بنیاد پر کسی خطے کو اپنا صوبہ قرار دے دینا دراصل انتشار پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے، جسے سنجیدگی سے لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔
ایسے میں پاکستان کے پاس اپنے شہریوں کے تحفظ اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسی کارروائیاں اسی آئینی ذمہ داری کا اظہار تھیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو تباہ کرنا، ان کے کمانڈ نیٹ ورکس کو توڑنا اور بے گھر ہونے والے قبائلی خاندانوں کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا تھا۔ اسی طرح پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب اور شناختی تصدیق کا نظام بھی کسی جارحیت کے بجائے ایک ایسا اقدام ہے جسے دنیا بھر میں سرحدی سلامتی کا معیاری اصول تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف دہشت گردوں کی دراندازی اور اسلحے کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔
اسی طرح 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابقہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام بھی ان عناصر کی جانب سے اکثر منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے قبائلی عوام کو عدالتی نظام، پولیس، پارلیمانی نمائندگی اور بنیادی شہری سہولیات تک رسائی دی۔ یہ عمل کسی قبضے کی نہیں بلکہ ایک جمہوری اور آئینی اقدام کی مثال ہے جس نے طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا۔
قومی سلامتی کے تقاضے یہ متقاضی ہیں کہ ریاست اپنی رٹ کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کو مؤثر، آئینی اور بروقت رکھے۔ فتنہ الخوارج کی مسلسل خونریزی کا ریکارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نرمی یا مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ انٹیلی جنس بنیادوں پر مربوط اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے، تاکہ ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ہو اور آئندہ نسلیں امن و سکون کی زندگی گزار سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
دیکھیے: ٹی ٹی پی کے ہاتھوں امریکی اسلحہ، خیبر پختونخوا پھر نشانے پر