خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر کے پُرخطر حالات سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے صوبے کی زمینی صورتحال کی ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ناگاہ پاس میں مقامی افراد نے دہشت گردوں کے خلاف ہتھیار اٹھا کر سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ محض سکیورٹی اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ عام شہری بھی اس کے براہِ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دیر جیسے علاقوں میں جہاں شہریوں کو دہشت گردی، خوف اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، وہاں مقامی آبادی کا دہشت گردوں کے خلاف کھڑا ہونا ایک واضح پیغام ہے کہ عوام امن، تحفظ اور ریاستی رٹ چاہتے ہیں۔
صوبے کے اصل مسائل؟
خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی، سکیورٹی چیلنجز، انتظامی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے کئی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی اولین ترجیح امن و امان، شہریوں کا تحفظ اور متاثرہ علاقوں میں مؤثر حکمرانی ہونی چاہیے۔
تاہم اسی دوران صوبائی حکومت کا ایک بڑا حصہ اسلام آباد کے سیاسی احتجاج، ڈی چوک، جلسوں اور دھرنوں کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صوبے کے دور دراز علاقوں میں شہری اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہیں، تو صوبائی حکومت کی توجہ ان کے مسائل پر کتنی ہے؟
عوام میدان میں اور حکمران؟
ایک جانب تو اپر دیر کے عوام دہشت گردی کے خلاف عملی طور پر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ اور قدم سے قدم ملائے کھڑے ہیں، دوسری جانب صوبائی قیادت کی سیاسی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ڈی چوک کے احتجاج، سیاسی جلسے، دھرنے اور اڈیالہ جیل سے متعلق سیاسی نعرے کیا واقعی خیبر پختونخوا کے ان شہریوں کے بنیادی مسائل کا حل ہیں جو روزانہ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں؟
https://twitter.com/irfijournalist/status/2087854642361446610?s=20
ترجیحات پر سوالات
دوسری ویڈیو میں وزیراعلیٰ کی جانب سے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ اسلام آباد جانے کا منظر بھی اسی بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ اگر صوبے کے وسائل اور حکومتی مشینری سیاسی سرگرمیوں یا کسی مخصوص سیاسی شخصیت کی رہائی کے لیے استعمال ہونے کا تاثر پیدا کریں، تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کے حساس اضلاع میں سکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ طلب ہے، صوبائی حکومت سے یہ پوچھنا غیر منطقی نہیں کہ اس کی توانائیاں اور وسائل سب سے پہلے کہاں صرف ہونے چاہئیں۔
اصل سوال؟
خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ امن، مؤثر حکمرانی اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ اپر دیر کی ویڈیو میں عام شہریوں کا دہشت گردوں کے خلاف کھڑا ہونا ایک طرف عوام کی ترجیح واضح کرتا ہے، جبکہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں کی سیاست دوسری طرف حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ حکومت کس کے لیے اسلام آباد جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ان شہریوں کے لیے کون کھڑا ہوگا جو اپنے علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف خود میدان میں موجود ہیں۔