طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب نے پاکستان پر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے اور ٹی ٹی پی کی موجودگی کے حوالے سے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ مسئلہ افغانستان کا استحکام نہیں، بلکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ہے۔
پاکستان کے مطابق پاک افغان کشیدگی کی اصل وجہ ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند عناصر کی افغان سرزمین پر موجودگی ہے۔ کابل کی جانب سے ٹی ٹی پی کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دینا اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
اسلام آباد زبانی دعووں کے بجائے کابل حکومت سے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان نے سفارتی راستے کھلے رکھے ہیں، لیکن ٹی ٹی پی کے مسئلے پر عملی پیش رفت نہ ہونے سے بنیادی اختلاف برقرار ہے۔
ملا یعقوب کی جانب سے مبینہ فضائی حملوں اور شہری ہلاکتوں کے الزامات پر پاکستان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کارروائیاں صرف ان دہشت گرد مراکز کے خلاف ہوتی ہیں جو پاکستانی شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
عسکری دھمکیاں اور الزام تراشی حالات کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں پائیدار بہتری کے لیے کابل حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا اور ٹی ٹی پی کے خلاف عملًا قدم اٹھانا ہوگا۔