افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان کے خلاف سنگین معرکے اور جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی ہے۔

August 16, 2026

ایک بھارتی یوٹیوبر نے پاک افغان سرحد کے قریب کنڑ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ارکان اور انٹیلی جنس یونٹ سے ملاقات اور رابطوں کی تصدیق کر دی ہے۔

August 16, 2026

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ بنوں کے موقع پر بنوں پولیس نے جدید ہتھیاروں اور وسائل کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے سکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

August 16, 2026

معروف تجزیہ کاروں احمد العربی اور سلمان جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہمیشہ بھارتی مالی معاونت اور افغان سرزمین کی سہولت کاری حاصل رہی ہے۔

August 16, 2026

تخار کی وادی چنارک میں چینی کان کنی کمپنی پر راکٹ حملے میں ایک چینی شہری ہلاک، طالبان حکومت کی سکیورٹی ناکامیاں بے نقاب۔

August 16, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان نے شکی سے نسی کے علاقے کی جانب تازہ دم جنگجو روانہ کر دیے ہیں، جس کے بعد جمعہ خان فتح کے ساتھ اندرونی کشیدگی اور تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

August 16, 2026

ترخان سونے کا تنازع: طالبان حکومت کی خطرناک وسائل پالیسی بے نقاب

تخار کی وادی چنارک میں چینی کان کنی کمپنی پر راکٹ حملے میں ایک چینی شہری ہلاک، طالبان حکومت کی سکیورٹی ناکامیاں بے نقاب۔
ترخان سونے کا تنازع: طالبان حکومت کی خطرناک وسائل پالیسی بے نقاب

تخار میں چینی کان کنی کمپنی پر راکٹ حملہ، ایک چینی شہری ہلاک، طالبان حکومت کی وسائل پالیسی سوالات کی زد میں۔

August 16, 2026

تخار کی وادی چنارک میں ایک چینی کان کنی کمپنی پر راکٹ حملے میں ایک چینی شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، جس سے وسائل سے مالا مال علاقوں میں چینی کان کنی منصوبوں کی سکیورٹی کے حوالے سے طالبان حکومت کی ناکامی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔

سونے کے ذخائر اور کان کنی کے مفادات متنازع آبائی زمین، مسلح مسابقت اور مقامی طاقت کی کشمکش میں الجھ چکے ہیں۔ طالبان حکومت افغانستان کے معدنی وسائل کے استخراج کے لیے چینی کمپنیوں کو راغب کرنا چاہتی ہے، لیکن چینی کارکنوں کو بنیادی سکیورٹی فراہم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔

تخار میں تشدد کا تسلسل

شمالی افغانستان کا صوبہ تخار، افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہے، جہاں میس عینک تانبے اور آمو دریا تیل منصوبوں کے بعد سب سے زیادہ چینی سرمایہ کاری موجود ہے۔

رواں سال جنوری میں بھی تخار کے ضلع چاہ آب میں مقامی آبادی اور ایک چینی کان کنی کمپنی کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد طالبان حکومت کو کان کنی کی سرگرمیاں معطل کرنا پڑی تھیں۔ اس سے قبل نومبر میں تاجکستان کی سرحد کے قریب دو الگ حملوں میں بھی 5 چینی کان کن ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد چینی سفارتخانوں نے متعدد بار اپنے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

غیر شفاف نظام

سونے کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے بجائے طالبان حکومت کا غیر شفاف اور غیر جوابدہ نظام قیمتی وسائل کو تنازعات کا ایندھن بنا رہا ہے، جس کی قیمت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی بھی ادا کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق شمالی افغانستان میں بیشتر چینی کان کنی منصوبے سکیورٹی کے لیے طالبان پر انحصار کرتے ہیں، اور طالبان انتظامیہ منصوبوں کے منافع میں بھی حصہ دار ہے، جس سے شفافیت کے حوالے سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان کے خلاف سنگین معرکے اور جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی ہے۔

August 16, 2026

ایک بھارتی یوٹیوبر نے پاک افغان سرحد کے قریب کنڑ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ارکان اور انٹیلی جنس یونٹ سے ملاقات اور رابطوں کی تصدیق کر دی ہے۔

August 16, 2026

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ بنوں کے موقع پر بنوں پولیس نے جدید ہتھیاروں اور وسائل کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے سکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

August 16, 2026

معروف تجزیہ کاروں احمد العربی اور سلمان جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہمیشہ بھارتی مالی معاونت اور افغان سرزمین کی سہولت کاری حاصل رہی ہے۔

August 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *