تخار کی وادی چنارک میں ایک چینی کان کنی کمپنی پر راکٹ حملے میں ایک چینی شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، جس سے وسائل سے مالا مال علاقوں میں چینی کان کنی منصوبوں کی سکیورٹی کے حوالے سے طالبان حکومت کی ناکامی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔
سونے کے ذخائر اور کان کنی کے مفادات متنازع آبائی زمین، مسلح مسابقت اور مقامی طاقت کی کشمکش میں الجھ چکے ہیں۔ طالبان حکومت افغانستان کے معدنی وسائل کے استخراج کے لیے چینی کمپنیوں کو راغب کرنا چاہتی ہے، لیکن چینی کارکنوں کو بنیادی سکیورٹی فراہم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔
تخار میں تشدد کا تسلسل
شمالی افغانستان کا صوبہ تخار، افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہے، جہاں میس عینک تانبے اور آمو دریا تیل منصوبوں کے بعد سب سے زیادہ چینی سرمایہ کاری موجود ہے۔
رواں سال جنوری میں بھی تخار کے ضلع چاہ آب میں مقامی آبادی اور ایک چینی کان کنی کمپنی کے اہلکاروں کے درمیان تصادم میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد طالبان حکومت کو کان کنی کی سرگرمیاں معطل کرنا پڑی تھیں۔ اس سے قبل نومبر میں تاجکستان کی سرحد کے قریب دو الگ حملوں میں بھی 5 چینی کان کن ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد چینی سفارتخانوں نے متعدد بار اپنے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
غیر شفاف نظام
سونے کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے بجائے طالبان حکومت کا غیر شفاف اور غیر جوابدہ نظام قیمتی وسائل کو تنازعات کا ایندھن بنا رہا ہے، جس کی قیمت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی بھی ادا کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق شمالی افغانستان میں بیشتر چینی کان کنی منصوبے سکیورٹی کے لیے طالبان پر انحصار کرتے ہیں، اور طالبان انتظامیہ منصوبوں کے منافع میں بھی حصہ دار ہے، جس سے شفافیت کے حوالے سے مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔