پاک افغان سرحدی علاقے میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ایک بھارتی یوٹیوبر نے افغان صوبے کنڑ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان سے ملاقات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع اور رپورٹس کے مطابق بھارتی یوٹیوبر نے اعتراف کیا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے کنڑ کے دورے کے دوران اس کی ملاقات ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں سمیت مختلف مقامی افراد سے ہوئی۔ اس گفتگو اور ملاقاتوں کے سلسلے نے سرحدی سکیورٹی اور خطے میں بھارتی عناصر کے متنازع رابطوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Breaking News: Indian YouTuber confirmed that, he met people in Pak-Afg border area (Kunar) including TTP members. A member of the TTP’s intelligence unit took his phone number and later called him that night. Following those calls, the Afghan Taliban kept him away from the area. pic.twitter.com/JdrysShD2x
— Mahaz (@MahazOfficial1) August 16, 2026
انکشاف کے مطابق ملاقات کے دوران ٹی ٹی پی کے انٹیلی جنس یونٹ کے ایک اہم رکن نے بھارتی یوٹیوبر سے اس کا فون نمبر حاصل کیا۔ بعد ازاں اسی رات ٹی ٹی پی کے مذکورہ انٹیلی جنس رکن نے یوٹیوبر کو فون پر رابطہ بھی کیا، جس سے دونوں جانب کے تعلقات اور رابطوں کی نوعیت مزید پرسرار ہو گئی ہے۔
ان مشکوک اور حساس رابطوں کا علم ہوتے ہی افغان طالبان کی انتظامیہ فوری متحرک ہو گئی۔ افغان طالبان نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بھارتی یوٹیوبر کو فوری طور پر مذکورہ حساس سرحدی علاقے سے دور منتقل کر دیا تاکہ مزید پیش رفت کو روکا جا سکے۔
پاک افغان سرحد پر بھارتی باشندے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سکیورٹی نیٹ ورک کے درمیان اس براہِ راست رابطے نے دفاعی ماہرین اور سکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس واقعے کے بعد سرحد پار فعال شدت پسند گروہوں اور بیرونی عناصر کے گٹھ جوڑ پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔