اتر پردیش کے شہر مظفر نگر میں ایک مسلم خاتون کو سڑک پر روک کر بدسلوکی کا نشانہ بنانا اور جبر کے ساتھ اس کا حجاب اتارنا محض ایک ہنگامی، حادثاتی یا مقامی نوعیت کا جرم نہیں ہے۔ سیاسی، اجتماعی اور حقوق کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ واقعہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں تیزی سے جڑ پکڑتے ہوئے اس سیاسی و اجتماعی مزاج کا عکاس ہے جہاں اقلیتوں، بالخصوص مسلم خواتین کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلسل تذلیل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ وہاں ایک عام شہری کے بنیادی آئینی حقوق، فرد کی ذات کی حرمت اور ریاست کے دیے گئے تحفظ کا تصور شدید ترین بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
بھارت میں مسلم خواتین کی ذات، لباس اور وجود کو درپیش یہ چیلنجز کسی ایک گلی یا محلے تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہیں ایک باقاعدہ فکری و سیاسی بیانیے کے طور پر اداروں اور عوام میں سرائیت کرایا گیا ہے۔ سال 2022 کے کرناٹک حجاب تنازع کا گہرا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان طالبات کو ان کے لباس کی بنیاد پر درسگاہوں کے دروازوں سے باہر روکا گیا۔
ریاست اور تعلیمی انتظامیہ کا یہ طرزِ عمل اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مقصد تعلیم میں یکسانیت یا نظم و ضبط قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک مخصوص اقلیتی برادری کو یہ واضح سیاسی پیغام دینا تھا کہ قومی اور عوامی دھارے میں ان کی شمولیت ان کی مذہبی شناخت کی قربانی سے مشروط ہوگی۔
مظفر نگر کے حالیہ واقعے میں پولیس کی جانب سے چند افراد کی گرفتاری اور قانونی کارروائی اپنی جگہ، مگر یہ روایتی انتظامی اقدامات اس گہری ہوتی ہوئی انتہا پسندانہ سوچ کا مداوا ہرگز نہیں کر سکتے جو عام شہریوں کو خود ساختہ اخلاقی پولیسنگ اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ ایک سنجیدہ تجزیاتی حقیقت یہ ہے کہ اصل معرکہ حجاب کی حمایت یا مخالفت کا ہے ہی نہیں، بلکہ اصل سوال عورت کے حقِ انتخاب اور اس کی انفرادی خود مختاری کا ہے۔
جدید دنیا میں جب عورت کے بااختیار ہونے اور اس کی خودمختاری کی بات کی جاتی ہے، تو اس کا پہلا بنیادی زینہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم، اپنے لباس اور اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہو۔ کسی بھی خاتون کو زبردستی حجاب اتروانے پر مجبور کرنا اتنا ہی بڑا جرم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے جتنی کسی خاتون پر زبردستی کوئی لباس مسلط کرنا، اور اس کا فیصلہ ریاست یا بے لگام ہجوم کے بجائے صرف اور صرف عورت کا ہونا چاہیے۔
اس تمام تر صورت حال کا انتہائی ہولناک اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ عورت کی شناخت اور اس کے وجود کو ایک سیاسی میدانِ جنگ بنا دیا گیا ہے جہاں اقلیتی برادریوں کو نفسیاتی طور پر زک پہنچانے کے لیے خواتین کو سب سے آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماضی میں سلی ڈیلز اور بُلی بائی جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مسلم صحافیوں، فعال ایکٹوسٹس اور باصلاحیت خواتین کی تصاویر کی تذلیل اور بولی لگانے کا جو بھیانک کھیل کھیلا گیا، اس کے پیچھے یہی سسٹمک ذہنیت کارفرما تھی کہ سماج میں متحرک اور آواز اٹھانے والی خواتین کو خوفزدہ کر کے بالکل خاموش کر دیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ منی پور میں نسلی کشمکش کے دوران خواتین کو برہنہ گھمانے کا خوفناک سانحہ ہو یا مختلف ریاستوں میں دیگر واقعات، یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بھارتی معاشرے میں صنف کے خلاف تشدد جب مذہبی یا قومیتی تعصب کے ساتھ ملتا ہے تو یہ اور زیادہ بھیانک، سنگدلانہ اور بربریت سے بھرپور روپ دھار لیتا ہے۔
مذہبی شناخت، حقِ انتخاب اور عقیدے کی آزادی کا یہ معرکہ محض مسلم برادری تک محدود رہنے والا نہیں ہے، کیونکہ تعصب اور سیاسی جارحیت کی آگ ہمیشہ اپنا دائرہ وسیع کرتی ہے اور اس کی زد میں آئندہ دیگر اقلیتیں، جیسے سکھ برادری کی دستار اور عیسائی اداروں کی علامات بھی یکساں طور پر آتی رہی ہیں۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل 25 جو اپنے تمام شہریوں کو بلا تفریق مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، آج اپنے مکمل نفاذ کے لیے ریاست کی نیت اور آئینی اداروں کی بالادستی کا منتظر ہے۔ جب تک بھارتی ریاست، عدلیہ اور وہاں کی سول سوسائٹی اس بنیادی و عالمگیر نقطے کو تسلیم نہیں کرتی کہ کسی عورت کی قابلیت، اس کے کردار، اس کی شہری حیثیت اور اس کے انسانی وجود کی قیمت اس کے کپڑوں اور اس کے مذہب سے طے نہیں ہو سکتی، تب تک نہ تو اقلیتیں محفوظ ہو سکتی ہیں اور نہ ہی وہ ملک عالمی سطح پر ایک حقیقی، مہذب اور منصفانہ جمہوریت کا استحقاق رکھ سکتا ہے۔
دیکھیے: پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر طالبان کب تک اپنی ناکامیاں چھپائیں گے؟