امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے سخت معاشی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے ایران کے خلاف باقاعدہ اقتصادی جنگ اور غیر معمولی تنہائی کی حکمتِ عملی قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ایران کو معاہدے کے لیے دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ مواقع دیے گئے، مگر تہران نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، فوجی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، اور ملکی معیشت انتہائی کمزور حالت میں جا پہنچی ہے۔
دوسرے ممالک کو تنبیہ
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران کو کسی بھی طرح کی معاشی سہارا دے گا، اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے خاص طور پر تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی لین دین، کیش ٹرانسفرز، ایکسچینج ہاؤسز، شپ رجسٹریز اور فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے دی جانے والی معاونت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس مہم کو اکنامک ڈی ڈے کا نام دیا اور کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرے گا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی مدد کرنے والے ممالک کے خلاف عملی طور پر کیا اقدامات کیے جائیں گے، اور نہ ہی کسی مخصوص ملک کا نام لیا۔