وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہے ہیں، تنظیمی کمان عدنان بلوچ کو سونپ دی گئی۔

October 4, 2026

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

بی ایل اے سربراہ کینسر میں مبتلا: بھارتی سرپرستوں کے پاس روانگی

کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہے ہیں، تنظیمی کمان عدنان بلوچ کو سونپ دی گئی۔
بی ایل اے سربراہ کینسر میں مبتلا

کالعدم بی ایل اے چیف بشیر زیب شدید علیل؛ علاج کی خاطر بھارت روانگی کے لیے را سے انتظامات مکمل، کابل میں اہم ملاقات کے انکشافات۔

October 4, 2026

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا سربراہ بشیر زیب شدید علیل ہو گیا ہے اور وہ پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب نے کابل میں افغان خفیہ ایجنسی (جی ڈی آئی) کے اعلیٰ افسر سے ملاقات میں اپنی بیماری اور بھارت روانگی کے منصوبے سے آگاہ کیا۔

بشیر زیب نے افغان حکام کو بتایا کہ علاج اور سفری سہولیات کے لیے کابل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے اسٹیشن چیف سے تمام معاملات طے ہو چکے ہیں۔ علالت کے باعث وہ تنظیمی اجلاسوں سے دور رہیں گے اور ان کی جگہ کالعدم تنظیم کی تمام تر آپریشنل باگ ڈور کمانڈر عدنان بلوچ سنبھالیں گے۔

ملاقات میں افغان انٹیلی جنس نے بی ایل اے سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں موجود طالبان مخالفین اور سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے۔ طے شدہ فارمولے کے مطابق اہداف کی نشاندہی جی ڈی آئی کرے گی، جبکہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد بی ایل اے کی ذمہ داری ہوگی۔

اس گٹھ جوڑ کے تحت بی ایل اے کمانڈروں میراج، نصیب بُگٹی اور دورا نے جی ڈی آئی کے مولوی سارم کے ساتھ کوئٹہ میں حملے کا منصوبہ فائنل کیا۔ اس کارروائی کے مالی اخراجات کے لیے کالعدم تنظیم کے گروہ کو دو لاکھ افغانی رقم بھی فراہم کی گئی۔

اسی دوران افغان صوبے فراہ میں بی ایل اے کمانڈر صدام براہوی کو ایم فور اور کلاشنکوف رائفلوں کا بڑا ذخیرہ دیا گیا۔ یہ اسلحہ قندھاری دھڑے سے تعلق رکھنے والے حاجی قادر بلوچ نے فراہم کیا، جس سے کالعدم تنظیم، بیرونی سرپرستوں اور مقامی سہولت کاروں کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *