افغانستان کے یومِ آزادی کے موقع پر کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری کردہ پیغامات کے بعد پاکستان میں تنظیم کے بیانیے اور سرگرمیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم سے وابستہ اکاؤنٹس نے 1919 میں برطانوی اثر و رسوخ سے افغان آزادی کی یادگار کی مناسبت سے پیغامات اور تاریخی شخصیات کے حوالے شیئر کیے۔ ان پیغامات نے ریاستی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیر دی ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنظیم پاکستان کے سکیورٹی اقدامات، سرحدی انتظامات اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے، جبکہ افغان وابستگی کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے سرحدی علاقوں میں ریاست مخالف جذبات بھڑکنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا تھا، اور اس کی سرگرمیوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ دوسری جانب تنظیم ماضی میں ان الزامات کو رد کرتی رہی ہے۔
افغان یومِ آزادی کے ان پیغامات کے بعد حقوق کے مطالبات، سیاسی اظہار اور قومی سلامتی کے حساس تقاضوں کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک بار پھر نئ گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے۔