پاکستان کی قومی سلامتی، سکیورٹی اقدامات اور سرحدی انتظامات پر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے بیانیے سے متعلق ایک بار پھر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی ایم اور این ڈی ایم سے وابستہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان کے یومِ آزادی (14 اگست) کو نظر انداز کرنے اور افغانستان کے یومِ آزادی پر پیغامات جاری کرنے کے عمل نے ان کی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین اس طرزِ عمل کو قومی یکجہتی سے دانستہ دوری قرار دے رہے ہیں۔
سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی ایم اور این ڈی ایم کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت اور سرحدی باڑ جیسے ضروری سکیورٹی اقدامات کی مسلسل مخالفت کی جاتی ہے۔ سرحدی نگرانی پر تنقید اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو نذرِ انداز کرنا ملکی سلامتی اور بارڈر مینجمنٹ کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔
تحقیقاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کے بیرونِ ملک موجود نیٹ ورکس اور سیاسی پناہ کی مہمات بھی پاکستان کے خلاف ایک منفی تاثر قائم کرنے میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں سے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی محاذ پر من گھڑت بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں پی ٹی ایم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دیا تھا، جبکہ این ڈی ایم کی قیادت بھی قانونی جانچ پڑتال کے زمرے میں ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو نذرِ انداز کر کے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو متنازع بنانا ملک دشمن عناصر کو نظریاتی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔