وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، جبکہ فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان دلیر بلوچ اور پشتون اقوام کا مسکن ہے، جن کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی اور رواداری جیسی روایات سے عبارت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے، چاہے اس کا تعلق مکران، لسبیلہ، چمن یا صوبے کے کسی بھی علاقے سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے وفاق اور بلوچستان کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
فتنہ الخوارج
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فتنہ الخوارج کو دشمن ممالک سے وسائل حاصل ہو رہے ہیں اور وہ بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کو کسی صورت قابل قبول قرار نہیں دیا۔
کراچی سے چمن شاہراہ
وزیراعظم نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک شاہراہ کے منصوبے کے لیے وفاقی حکومت نے 415 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ اسے خونی سڑک سے امن کی سڑک میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو چکا اسے پیچھے چھوڑ کر بامقصد اور کھلے انداز میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔
گوادر بندرگاہ
وزیراعظم نے گوادر بندرگاہ کو خطے کی شاندار بندرگاہوں میں سے ایک قرار دیا اور بتایا کہ وہاں نئے ہوائی اڈے سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے کسانوں کے ٹیوب ویلوں کے بجلی اخراجات کے مسئلے کے حل کے لیے تقریباً 70 ارب روپے کا منصوبہ بنایا گیا، جس کے تحت 20 ہزار سے زائد ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے نو اضلاع میں دانش اسکولوں کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، جن میں جدید تعلیم، رہائش اور آئی ٹی لیبارٹریز سمیت بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کے منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو پنجاب کے لیے مختص کردہ 70 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہیں۔
وزیر پٹرولیم کو ہدایت
وزیراعظم نے وفاقی وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ اسی ہفتے کوئٹہ جا کر بلوچستان کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کریں اور آئندہ موسم سرما کے لیے گیس کی فراہمی کا مسئلہ حل کریں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت تمام صوبے ترقی و خوشحالی کے سفر میں برابر کے شریک ہوں۔