"> مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سیاسی پینتروں کو تجزیہ کاروں نے پرانی موقع پرستانہ سیاست کا تسلسل قرار دے دیا۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام

ملکی سیاست میں جوڑ توڑ کا نیا کھیل، مولانا فضل الرحمان کے حالیہ اقدامات اور مفادات پر مبنی سیاست پر مبصرین کے شدید تحفظات۔

August 23, 2026

ملکی سیاسی افق پر ایک بار پھر جوڑ توڑ کا نیا کھیل شروع ہو چکا ہے، جہاں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سیاسی پینتروں کو مبصرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے پرانی موقع پرستانہ سیاست کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کا ایک مستقل پیٹرن رہا ہے کہ اگر اقتدار میں مطلوبہ حصہ، وزارتی قلمدان اور مراعات حاصل ہو جائیں تو وہ حکومت کے سب سے مضبوط اتحاد بن جاتے ہیں۔

تاہم، اگر معاملات بات چیت کے مطابق طے نہ پائیں تو وہ فوری طور پر حزبِ اختلاف کی صفِ اول میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔

موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی صورتحال کچھ مختلف دکھائی نہیں دے رہی، جہاں ایک بار پھر سیاسی منڈی سج چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں سے کون مولانا کے ساتھ بہتر سیاسی سودے بازی کرتا ہے۔

مبصرین کے مطابق جس پلڑے میں مفاد اور مراعات کا وزن زیادہ ہوگا، مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قبلہ بھی اسی طرف جھک جائے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *