"> خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات
لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔
لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں 2026 کے پہلے دس ماہ میں خودکشی کے 112 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 87 مرد شامل ہیں۔ ایدھی کے اعداد، گزشتہ سال سے موازنے اور لائبہ اعجاز کیس کی روشنی میں ایک تجزیاتی تحریر۔

November 3, 2026

۔112۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، 112 گھر ہیں جہاں کسی کی کرسی خالی ہو گئی، کسی ماں کی گود اجڑ گئی، کسی بچے کو یہ بھی نہیں بتایا جا سکا کہ اس کا باپ اب کیوں نہیں آئے گا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق لاہور میں یکم جنوری سے 31 اکتوبر 2026 تک اتنے لوگوں نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ ہم نے خبر پڑھی، افسوس کیا، اور اگلی خبر کی طرف بڑھ گئے۔ مگر ذرا رک کر سوچیں کہ دس مہینوں میں ایک شہر کے 112 لوگ اتنے تھک گئے، اتنے اکیلے ہو گئے کہ انہیں کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہ دیا۔ اور ہم میں سے کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔

اب اس تعداد کو پچھلے سال کے سامنے رکھیں۔ 2025 میں پورے بارہ مہینوں میں 116 لوگ گئے تھے۔ اس سال ابھی دو مہینے باقی ہیں اور ہم 112 تک پہنچ چکے ہیں، یعنی پچھلے پورے سال کے تقریباً برابر۔ برابر کی مدت میں دیکھیں تو پچھلے سال کے پہلے دس مہینوں میں یہ تعداد 103 تھی، اس سال 112 ہے۔ اضافہ تقریباً نو فیصد ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ فرق بڑا نہیں۔ مگر یہاں فرق کا حجم نہیں، اس کی سمت اہم ہے۔ ہم گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر میں تو حالت یہ رہی کہ دو مہینوں میں 25 لوگ گئے، جبکہ پچھلے سال انہی دو مہینوں میں 14 گئے تھے۔ ہر عدد کے ساتھ ایک نام تھا، جو اب صرف فائل میں رہ گیا ہے۔

اور اب وہ بات جو سب سے زیادہ بے چین کرتی ہے۔ یہ 112 صرف وہ ہیں جو ایدھی کے ریکارڈ میں آئے۔ یعنی وہ کیس جن میں ایدھی کی ایمبولینس یا رضاکار پہنچے۔ پاکستان میں خودکشی کے سرکاری اعداد باقاعدہ جمع ہی نہیں کیے جاتے، اور عالمی ادارۂ صحت خود کہہ چکا ہے کہ یہاں خودکشی غالباً بہت کم رپورٹ ہوتی ہے۔ سوچیں، کتنے گھروں نے بدنامی کے ڈر سے سچ چھپا لیا ہوگا۔ کتنے خاندانوں نے موت کی وجہ کچھ اور بتا دی ہوگی۔

کتنے لوگ ہسپتالوں میں پہنچے اور بات وہیں دب گئی۔ کتنوں کی خبر کسی رجسٹر میں گئی ہی نہیں۔ اور وہ لوگ جو کوشش کے بعد بچ گئے اور آج بھی اسی اندھیرے میں جی رہے ہیں، وہ تو کسی گنتی میں ہیں ہی نہیں۔ اصل تعداد کیا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا، اور میں بھی کوئی عدد گھڑ کر آپ کو نہیں دوں گا۔ مگر اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ 112 اس کہانی کا سب سے ہلکا حصہ ہے، پوری کہانی نہیں۔

ان 112 میں 87 مرد ہیں۔ پچھلے سال کے پہلے دس مہینوں میں مرد 72 تھے، یعنی اس سال کا سارا اضافہ مردوں کے حصے میں آیا ہے۔ ہم نے مردوں کو سکھایا ہے کہ مرد نہیں روتے، مرد ہار نہیں مانتے، مرد گھر کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور شکایت نہیں کرتے۔ تو جب اس بوجھ تلے سانس رکنے لگتی ہے، وہ کس سے کہیں؟ ایدھی کے ترجمان کے مطابق غربت، محبت میں ناکامی اور گھریلو ناچاقی اہم وجوہات ہیں۔ شاید ایک باپ جس کے پاس مہینے کے آخر میں بچوں کی فیس نہیں تھی، ایک نوجوان جسے کوئی نوکری نہیں ملی، ایک شوہر جس کے گھر میں روز لڑائی ہوتی تھی۔

ان وجوہات کے پیچھے جو چہرے ہوں گے، وہ ہمارے اور آپ کے جیسے ہی ہوں گے۔ اور خواتین بھی کم نہیں تھیں۔ 25 خواتین نے بھی اپنی جان لی۔ کئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ خواتین میں کوشش اور ذہنی دباؤ کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، مگر وہ ایدھی کے اعداد میں اس لیے نہیں آتے کہ وہ زندہ بچ جاتی ہیں اور خاموشی میں دفن ہو جاتی ہیں۔

اسی درد کی ایک جانی پہچانی مثال لائبہ اعجاز ہے۔ اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ۔ ایک ایسی بیٹی جو اپنے والدین کا فخر تھی، جس نے امریکا جا کر مزید پڑھنے کا خواب دیکھا تھا۔ مبینہ طور پر ایک شخص نے خود کو بااثر سرکاری شخصیت ظاہر کر کے اس خواب کا سودا کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کے لیے والد نے پلاٹ بیچ کر رقم دی اور سوتیلی ماں کا زیور بھی دیا گیا۔ جب دستاویزات جعلی نکلیں اور تاریخیں بار بار ٹلتی رہیں تو لائبہ کے سامنے صرف دھوکا نہیں تھا، گھر والوں کی جمع پونجی کا بوجھ تھا اور یہ ڈر تھا کہ وہ کیسے بتائے گی۔

رپورٹس کے مطابق وہ والد کو بتانے سے ڈرتی تھی۔ شاید اسے لگتا تھا کہ وہ سب کی امیدیں توڑ چکی ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کے گھر والوں کو پیسے سے زیادہ وہ خود عزیز تھی۔ بعد میں سب نے نوٹس لیا، وزیر اعظم نے، ایف آئی اے نے، پولیس نے، ملزم کے دوسرے شکار بھی سامنے آئے، اور والد کو رقم بھی واپس مل گئی۔ مگر جو لوٹ کر نہیں آئی، اس کا حساب کس کے پاس ہے؟

یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم اکثر سانحے کے بعد جاگتے ہیں۔ جب تک ایک پریشان انسان خاموش بیٹھا ہوتا ہے، کسی کو پروا نہیں ہوتی۔ جب وہ چلا جاتا ہے تو سب جاگ اٹھتے ہیں۔ ہم نے 2022 میں خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکال دیا، جو ایک اچھا قدم تھا۔ مگر قانون بدلنے سے دل نہیں بدلتے۔ آج بھی بہت سے گھروں میں ذہنی صحت کی بات کرنا شرم سمجھا جاتا ہے، آج بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے آپکو مضبوط رکھو، سب ٹھیک ہو جائے گا، اور آج بھی کسی ماہرِ نفسیات تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایسے میں جب کوئی کہتا ہے کہ میں تھک گیا ہوں، تو اسے جواب میں ڈانٹ ملتی ہے، نصیحت ملتی ہے، یا خاموشی۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ اس نے کسی کو بتایا کیوں نہیں۔

تو ان اعداد کا ہم سے کیا مطالبہ ہے؟ پہلا یہ کہ ہمیں ریاستی سطح پر ایک باقاعدہ نظام چاہیے جو خودکشی کے واقعات کو درست طور پر گنے، تاکہ ہم جان سکیں کہ دکھ کہاں کہاں چھپا ہے۔ جب تک ہم گنیں گے نہیں، ہم سمجھیں گے نہیں، اور جب تک سمجھیں گے نہیں، ہم بچا نہیں سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ مردوں کے آنسوؤں کو جگہ دینی ہوگی، کیونکہ ان کی خاموشی ان کی جان لے رہی ہے۔ تیسرا یہ کہ غربت اور بے روزگاری کو صرف معاشی اعداد نہ سمجھیں، یہ ذہنی صحت کا مسئلہ بھی ہے۔

اور سب سے آخر میں، سب سے ضروری، ہم میں سے ہر ایک کو یہ سیکھنا ہوگا کہ کسی کا حال پوچھ کر جواب کا انتظار کیسے کیا جاتا ہے۔ کسی کے لہجے کی تھکن کو کیسے پہچانا جاتا ہے۔ اور کسی کو یہ کیسے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا ہونا کسی بھی نقصان سے زیادہ قیمتی ہے۔ شاید ہمارے ایک جملے سے کسی کی کہانی کا انجام بدل جائے۔

متعلقہ مضامین

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

سعودی اتحاد کے مطابق مکہ ریجن میں ایک ڈرون کی نشاندہی کے بعد اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *