ملکی سیاسی افق پر ایک بار پھر جوڑ توڑ کا نیا کھیل شروع ہو چکا ہے، جہاں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سیاسی پینتروں کو مبصرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے پرانی موقع پرستانہ سیاست کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کا ایک مستقل پیٹرن رہا ہے کہ اگر اقتدار میں مطلوبہ حصہ، وزارتی قلمدان اور مراعات حاصل ہو جائیں تو وہ حکومت کے سب سے مضبوط اتحاد بن جاتے ہیں۔
تاہم، اگر معاملات بات چیت کے مطابق طے نہ پائیں تو وہ فوری طور پر حزبِ اختلاف کی صفِ اول میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی صورتحال کچھ مختلف دکھائی نہیں دے رہی، جہاں ایک بار پھر سیاسی منڈی سج چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں سے کون مولانا کے ساتھ بہتر سیاسی سودے بازی کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق جس پلڑے میں مفاد اور مراعات کا وزن زیادہ ہوگا، مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قبلہ بھی اسی طرف جھک جائے گا۔