"> تیراہ میں پی ٹی ایم کے اجتماعات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تیراہ میں پی ٹی ایم کے اجتماعات: حقوق کی جدوجہد یا ریاست مخالف بیانیہ؟

وادیٔ تیراہ میں پی ٹی ایم کے ہفتہ وار اجتماعات پر ماہرین نے سوالات اٹھا دیے ہیں، مبینہ غیر ملکی فنڈنگ اور سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانیے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تیراہ میں پی ٹی ایم کے اجتماعات

وادیٔ تیراہ میں پی ٹی ایم کے ہفتہ وار اجلاس پر سیاسی و دفاعی حلقوں کے تحفظات، تنظیم کے بیانیے اور مبینہ روابط پر سوالات اٹھ گئے۔

August 24, 2026

وادیٔ تیراہ میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے ہفتہ وار اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے، جس پر مختلف سیاسی و سکیورٹی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی ایم کی جانب سے ان اجتماعات کو بے گھر اور متاثرہ افراد کی آواز قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں کو ریاست مخالف بیانیے کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک پر غیر ملکی فنڈنگ، بھارت کے خفیہ ادارے ’را‘ اور افغان طالبان کی قیادت سے مبینہ روابط کے سنگین الزامات ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے بیان اور پی ٹی ایم کے موقف میں مماثلت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آیا یہ جدوجہد آئینی حدود میں ہے یا کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

دوسری جانب، پاکستان کی مسلح افواج کو نوآبادیاتی قرار دینے کے بیانیے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاک فوج میں بڑی تعداد میں پشتون افسران اور جوان اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد پاکستانیوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانیں قربان کی ہیں، جن میں ہزاروں پشتون بھی شامل ہیں۔ ایسے میں فوج کو قابض فورس قرار دینا ان قربانیوں کی توہین ہے۔

ملک میں پشتون برادری کو تمام آئینی حقوق حاصل ہیں اور وہ سیاست، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف سیاست کے بجائے تمام مسائل کا حل قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

دیکھیے: افغانستان کے یومِ آزادی پر پی ٹی ایم کا بیانیہ: پاکستان میں شدید تنقید کا سامنا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *