وادیٔ تیراہ میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے ہفتہ وار اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے، جس پر مختلف سیاسی و سکیورٹی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی ایم کی جانب سے ان اجتماعات کو بے گھر اور متاثرہ افراد کی آواز قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں کو ریاست مخالف بیانیے کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک پر غیر ملکی فنڈنگ، بھارت کے خفیہ ادارے ’را‘ اور افغان طالبان کی قیادت سے مبینہ روابط کے سنگین الزامات ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے بیان اور پی ٹی ایم کے موقف میں مماثلت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آیا یہ جدوجہد آئینی حدود میں ہے یا کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی مسلح افواج کو نوآبادیاتی قرار دینے کے بیانیے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاک فوج میں بڑی تعداد میں پشتون افسران اور جوان اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد پاکستانیوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانیں قربان کی ہیں، جن میں ہزاروں پشتون بھی شامل ہیں۔ ایسے میں فوج کو قابض فورس قرار دینا ان قربانیوں کی توہین ہے۔
ملک میں پشتون برادری کو تمام آئینی حقوق حاصل ہیں اور وہ سیاست، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف سیاست کے بجائے تمام مسائل کا حل قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
دیکھیے: افغانستان کے یومِ آزادی پر پی ٹی ایم کا بیانیہ: پاکستان میں شدید تنقید کا سامنا