دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کی جانب سے باجوڑ کے علاقے عنایت کلے میں پولیس اہلکار پر فائرنگ اور وانا میں امن کمیٹی کے رکن کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان دونوں واقعات کی تاحال کوئی واضح یا قابلِ اعتماد سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، جس سے ان دعوؤں کی صداقت پر شدید سوالات اٹھتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش خراسان جیسے نیٹ ورکس اپنی عملی ناکامیوں کو چھپانے اور میڈیا میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے غیر مصدقہ واقعات کا سہارا لے رہے ہیں۔
ان دعوؤں کو اقوامِ متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ داعش خراسان کا اصل مسکن اور سیکیورٹی چیلنج افغانستان کے اندر موجود ہے۔
رپورٹ اور ماہرین کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام کے مسلسل دباؤ کے باعث داعش خراسان اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے معلوماتی جنگ اور پراپیگنڈے پر زیادہ تکیہ کر رہی ہے۔
عنایت کلے اور وانا کے واقعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ تنظیم کا مقصد صرف پریس ریلیز کے ذریعے اپنی آپریشنل کامیابی کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا ہے۔
دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کا تاثر پھیلانا ایک منظم حکمتِ عملی ہے، جبکہ زمینی حقائق کی روشنی میں آزادانہ تصدیق کے بغیر ان دعووں کی کوئی قانونی یا عسکری حیثیت نہیں ہے۔
دیکھیے: سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں: دہشت گرد گروہ مبالغہ آمیز دعوؤں پر مجبور