آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن نے مخصوص نشستوں پر نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی عددی برتری مزید مضبوط کر لی ہے۔
مسلم لیگ ن نے 8 مخصوص نشستوں میں سے 6 نشستیں جیت لیں، جس کے بعد پارٹی کے کل ارکانِ اسمبلی کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا اگلا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔
علماء و مشائخ کی نشستیں
ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ ن کے بیرسٹر افتخار گیلانی نے 26 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار علی 12 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
علماء و مشائخ کی نشست پر بھی ن لیگ کے محمد مظہر سعید 26 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے حافظ طارق نے 12 ووٹ حاصل کیے۔
خواتین کی نشستیں
خواتین کی 5 مخصوص نشستوں میں سے 3 نشستیں مسلم لیگ ن کے حصے میں آئیں، جن پر مریم زمان، مریم ادریس اور سحرش قمر کامیاب قرار پائیں۔ باقی 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجہ نے کامیابی حاصل کی۔
مخصوص نشستوں کے حتمی نتائج کے بعد مسلم لیگ ن کے 25 ووٹ اتحادی حمایت کے ساتھ مجموعی طور پر 26 ووٹ ہو گئے۔ اوورسیز نشست پر عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلامقابلہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
ان نتائج کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 14 تک محدود رہی۔
عددی برتری مستحکم ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت سازی کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔