افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی جریدے ساؤتھ ایشیا جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف گروہ بدستور سرگرم ہیں اور بعض گروہوں کو اسلحے، تربیت اور سہولت کاری کے ایسے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہے جو خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں اور فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بھی افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے خطے میں دہشتگردی کے خطرے پر عالمی توجہ مزید مرکوز ہوئی ہے۔
ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ ملک میں سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی انضمام کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ افغانستان میں قائم مستقل پناہ گاہیں پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
افغان نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی ماضی میں افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ طالبان حکومت اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو کس حد تک روکنے میں کامیاب رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ باہمی روابط خطے میں دہشتگردی کے خطرات کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت پڑوسی ممالک مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
دیکھیے: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، زیباک میں شدید جھڑپ، متعدد ہلاکتیں